سوپورکے نوجوان جنیدکھورؤکی ہلاکت کامعمہ

SHRCنے کیااُسوقت کے ایس ایچ اؤسوپوکوطلب

سری نگر:۲۸،مئی:کے این این/ لگ بھگ 11سال قبل سوپورمیں مبینہ طورپرایک جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے نوجوان20سالہ جنیداحمدکھورؤکی ہلاکت کامعمہ 11سال بعدمقامی حقوق انسانی کمیشن میں زیرسماعت لایاگیا۔کے این این کومعلوم ہواکہ 29جون2011کونوعمرطالب 20سالہ جنیدکھورؤکوپولیس نے مبینہ طورپرایک جھڑپ کے دوران جاں بحق کیاتھا،اورپولیس نے دعویٰ کیاتھاکہ جنیدایک جنگجوتھاجس نے پولیس پرحملہ کیا،اوراس کے بعدجنیدنے بقول پولیس خودکشی کرلی ۔اس سلسلے میں پولیس تھانہ سوپورنے ایف آئی آرزیرنمبر178/2011کے تحت کیس درج کیالیکن بعدازاں کیس کوبندکردیاگیا۔جنیدکے لواحقین نے انصاف کیلئے ریاستی حقوق انسانی کمیشن سے سال 2011میں ہی رجوع کیا۔ایس ایچ آرسی نے اس معاملے کی خودتحقیقات شروع کردی ،جس دوران کمیشن کی پولیس تحقیقاتی ٹیم نے مہلوک نوجوان جنیدکھورؤکے لواحقین کی دلیل سے اتفاق کیاکہ اس نوجوان کی ہلاکت ماورائے عدالت زمرے میں آتی ہے ۔کمیشن ھٰذانے اس ہلاکت کی تحقیقات کرائم برانچ کے ذریعے کرانے کی سفارش کی جبکہ ایس ایچ آرسی نے ڈاکٹر فداحسین نامی ایک معالج کوطلب کیاکیونکہ اسی ڈاکٹرنے جنیدکی نعش کامعائنہ کیاتھا۔ڈاکٹرفدانے کمیشن کوبتایاکہ اُسکومتعلقہ بی ایم اؤڈاکٹرعبدالرشیداورپولیس حکام نے جنیدکی نعش کامقامی ایس اؤجی کیمپ میں معائنہ کرنے کوکہاتھا،اوراسی بناء پرمذکورہ نوجوان کاپوسٹ مارٹم نہیں کیاجاسکا۔ معلوم ہواکہ ایس ایچ آرسی نے اب بیس سالہ نوجوان جنیدکھورؤکی مبینہ حراستی یاماورائے عدالت ہلاکت کاسخت نوٹس لیتے ہوئے اُسوقت کے ایس ایچ اؤسوپورغظنفرعلی کوطلب کیا۔ایس ایچ آرسی کے ذرائع نے بتایاکہ سابق ایس ایچ اؤسوپورکو23جولائی کوکمیشن میں پیش ہوکراپنابیان قلمبندکرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

Comments are closed.