رمضان المبارک بیش بہا انعام و اکرام:میر واعظ
مسلمانوں کی اکثریت اہم دینی فریضہ کی ادائیگی کے تئیں کوتاہی کی شکار
سری نگر:۲۸،مئی:/ حریت کانفرنس کے چیرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں کشمیر کے امیر میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمدعمر فاروق نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے روزے دار بندوں کیلئے ایک بیش بہا انعام و اکرام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر رکھے گئے روزوں کے اجر کا خود اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہے اور محض خدا کی خوشنودی کیلئے کئے گئے ہر عمل کا خدا نے بہترین جز اکا وعدہ کیا ہے۔ کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق رمضان المقدس کے عشرہ مغفرت میں وعظ و تبلیغ کی مجالس کے سلسلے میں کرالہ مسجد شریف حول سرینگر میں نماز عصر سے پہلے ایک بڑے دینی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ مقدس رمضان کی کئی نمایاں خصوصیات میں سے اس مہینے میں قرآن مجید کا نزول کے علاوہ عام طور سے مسلمانان عالم اس ماہ مقدس میں اپنی پاک کمائی کی زکوٰۃ اللہ کی راہ میں خوشدلی سے نکالنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ماہ رمضان کا روزہ فرض ہے اسی طرح صاحب حیثیت افراد پر زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازمی اور واجب ہے اور زکوٰۃ اسلام کے اُس معاشی اور اقتصادی نظام کا حصہ ہے جس کو اگر صدق دلی، دیانتداری اور پابندی کے ساتھ ادا کیا جائے تو دنیا میں کہیں پر بھی ایک بھی مسلمان مفلوک الحال اور دوسروں کا دست نگر نہیں رہیگا۔کے این این کوبھیجے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اس اہم دینی فریضہ کی ادائیگی کے تئیں کوتاہی کے شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہزاروں لاکھوں مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں نان شبینہ کیلئے ترس رہے ہیں حالا نکہ دین فطرت اسلام نے اس مسئلہ کا زکوٰۃ کی شکل میں ایک ایسا نظام اور مستقل حل فراہم کیا ہے جس کو پورا کرنے سے نہ صرف مسلمانوں کی اقتصادی اور معاشی حالت میں سدھار آسکتا ہے بلکہ ہمارے ہزاروں فلاحی ادارے ،سکول اور کالج ، یتیم خانے اور شفاخانے وغیرہ بھی بہتر طور پر اپنے دائرے کے اندر اپنا کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔میرواعظ نے ملت کے صاحب ثروت اور صاحب حیثیت افراد پر زور دیا کہ وہ رزق حلال کمانے کے ساتھ ساتھ حق العباد کے شرعی وظیفے کو مد نظر رکھ کر پوری پابندی اور ذمہ داری کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی میں ہرگز کوتاہی نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہمیں سماج کے اُن غریب ، نادار ، محتاجوں اور یتیموں کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ان کی کفالت کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ نہ صرف ایک ملی فریضہ ہے بلکہ دین اسلام نے اس ضمن میں مسلمانوں کو نہ صرف زبردست تاکید کی ہے بلکہ زکوٰۃ نہ ادا کرنے پر سخت تادیب اور وعید کا سامنا کرنے کا بھی انتباہ دیا ہے۔ میرواعظ نے رمضان المبارک کے مہینے کو نیکیوں کی بہار کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں اس مہینے میں ہم سب کی کوشش رہتی ہے کہ سماج کے بے سہارا اور مستحق افراد کی کماحقہ مدد کریں وہیں ہزاروں کی تعداد میں بیوائیں اور یتیم بچے جو رواں تحریک کے دوران اپنے سرپرستوں کے کھو چکے ہیں ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں ۔
Comments are closed.