8سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف شوپیان ،پلوامہ اور پامپور ابل پڑا  پولیس و فورسز اور نوجوانوں کے مابین تصادم آرائیاں،6پولیس ،5سی آر پی ایف اہلکاروں سمیت 35زخمی 

سرینگر /اے پی آئی/ 18 سالہ نو جوان کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے شو پیاں ،پلوامہ،اور پانپور قصبے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا، پولیس و فور سز نے تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گو لے داغے،پیپر گیس۔ساؤنڈشعلوں ،پیلٹ گو لیوں کا بے تحا شہ استعمال کیا،18سالہ نو جوان جو فور سز کے ہاتھوں جا ںبحق ہوئے کی تین بار لوگوں کی کثیر تعداد نے نماز جنا زہ ادا کرنے کے بعد اس سے پر نم آنکھوں کے ساتھ سپر د خاک کیا ۔ نو جوان کی یاد میں شو پیاں اورپلوامہ اضلاع اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہڑ تا ل سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی، کارو باری ادارے ٹھپ رہے، پبلک ٹرا نسپورٹ سڑکوں سے غا ئب رہا،اسکولوں ،کالجوں اور سرکاری دفتروں کا کام بھی معطل رہا۔ لوگوں کے جان و مال کے تحفط کو یقینی بنانے، امن و امان کی صورت حال کو بر قرار رکھنے کیلئے انتظا میہ نے پولیس و فوور سز کی تعیناتی عمل میں لا کر حفا ظتی اقدامات سخت کر دیئے تھے ،جموں سرینگر شاہراہ پر اس وقت گاڑیوںکی آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی جب پولیس و فورسز کی جانب سے احتجاجی کرنے والے طلبا و طالبات کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا گیا ،احتجاج کرنے والی نصف درجن کے قریب طالبات بیہوش ہو گئیں ۔اے پی آئی نما ئندے کے مطا بق 18 سالہ فور سز کے ہاتھوں نو جوان کی ہلا کت کے خلاف شو پیاں ،پلوامہ ا ور پا نپور قصبوں اور ان کے ملحقہ علاقو میں نو جوانوں کی کثیر تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے 18 سالہ نو جوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظا ہرے کئے اور پولیس و فور سز پر خشت باری شروع کر دی۔نمائندے کے مطا بق تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فور سز نے اشک آور گیس کے گو لے داغے، پیپر گیس،ساؤنڈ شعلوں اور پیلٹ گو لیوں کا بے تحا شہ استعمال کیا ۔نما ئندے کے مطا بق شو پیاں قصبے میں پولیس و فور سز کو بار بارطا قت کا استعمال کرنا پڑا نو جوانوں اور پولیس و فورسز کے درمیان جھڑ پوں میں 4پولیس، 2سی آر پی ایف اہلکارو سمیت11افراد زخمی ہو ئے جبکہ کاکہ پورہ،راج پورہ چوک ،پلوامہ،نیوا کے علاقوں میں 18سالہ نو جوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فور سز نے اشک اور گیس کے گولے داغے، پیپر گیس اور پیلٹ گو لیوں کا استعمال کیا، فر قین کے در میان جھڑپوں میں 2 سی آر پی ایف ،ایک پولیس اہلکار سمیت 9افراد زخمی ہو ئے ۔ نما ئندے کے مطا بق پانپور قصبے میں بھی 18 سالہ نو جوان کی ہلاکت کے خلاف پر تشدد مظا ہرے ہوئے اور تشدد پراتر آئی بھیڑ کو درہم برہم کرنے کیلئے پولیس و فور سز نے لاٹھی چا رج کیا ،اشک آ ور گیس کے گو لے داغے، پیپر گیس اور پیلٹ گو لیوں کا بھی استعمال کیا ۔نما ئندے کے مطا بق جاں بحق ہوئے 18 سالہ نو جوان کی گنا پورہ،بل پورہ شوپیاں میں تین بار پلوا مہ میں دو بار اور پانپور قصبے میں دو بار نماز جنا زہ ادا کی گئی اور اٹھارہ سالہ نو جوان کو لوگوں کی کثیر تعداد نے پر نم آنکھوں کے ساتھ اپنے آبائی مقبرہ میں سپرد خاک کیا اس مو قعے پر لوگوں ں نے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔واضح رہے کہ پولیس ،راشٹریہ رائفلس اور جموں وکشمیر پولیس نے 6جون بعد از افطار گنا پور ہ پلوامہ شوپیاں کے علاقے کو اس وقت محاصرے میں لے لیا جب 44 راشٹریہ رائفلز اور جموں کشمیر پویس کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں 3سے 4 عسکریت پسند چھپے بیٹھے ہے. اطلاع ملنے کے بعد جو نہی پولیس و فور سز نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور تلاشی کاروائی شروع کی نو جوانوں کی کثیر تعداد مسجدوں میں داخل ہوئے اور انہوں نے گنا پورہ کے آس پاس علاقے کے لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی تلقین کی ۔نما ئندے کے مطا بق پولیس و فور سز اور گھرو ںسے با ہر آنے والے لوگوں کے ما بین تصا دم آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور پولیس و فور سز نے تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس اور پیلٹ گو لیوں کا بھی استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ہوا میں بھی گو لیاں چلائی جس کے دوران اٹھارہ سالہ نو جوان عا دل فاروق و لد فاروق احمد گو لی لگنے سے شدید طور پر زخمی ہو،ا اگر چہ مذکورہ نو جوان کو دوسرے 14 زخمیوں کے ہمراہ علاج کیلئے ضلع اسپتال شو پیاں پہنچا دیا تا ہم ڈاکٹروں نے اس سے مردہ قرار دیا۔اٹھارہ سالہ نو جوان کی پولیس و فورسز کے ہاتھوں مو بین ہلا کت کے خلاف رات بھر احتجاجی مظا ہرے جارے رہے ادھر اٹھارہ سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال سے شوپیاں ،پلوامہ قصبوں اور اس کے ملحقہ علاقوں میں زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی کاروباری ادارے بند رہے پبلک ٹرا نسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا اسکولوں ،کالجوں ،اور ہائی سیکنڈریوں میں انتظامیہ نے پہلے ہی تعطیل کا اعلان کیا تھا تا ہم سر کاری دفتروں میں بھی ملازمین کی حاضری براہی نام رہی بینکوں اور پر ا ئیوٹ دفتروںمیں بھی کام کاج بری طرح سے متا ثر ہوا۔ادھر جموں سرینگر شاہراہ پر اس وقت گاڑیوں کی آمد و رفت کئی گھنٹوں تک معطل ہو کر رہ گئی جب گرلز ہائیر اسکینڈری اور بائیز ہائیر اسکینڈری میں زیر تعلیم طلبا و طالبات نے پولیس و فورسز کے ہاتھوں مبینہ طور پر جاں بحق کئے گئے 18سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور شاہراہ پر احتجاج کرنے والے طلبا و طالبا ت کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس ،ساؤنڈ شلوں اور پیلٹ گولیوں کا استعمال کیا گیا ،طاقت کا بے تحاشا استعمال کرنے کے باعث نصف درجن کے قریب طالبات دم گٹھنے کی وجہ سے بیہوش ہو گئیں جنہیں علاج کیلئے اسپتا ل پہنچا دیا گیا ۔

Comments are closed.