اسیران کی رہائی کے حق میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کا احتجاج
کشمیری اپنے سیاسی مظلوم قیدیوں کی فوری رہائی کے متمنی ، اسیران کو فی الفور رہا کردیا جائے:محمد یاسین ملک
سرینگر:۲۶،مئی : / لبریشن فرنٹ محمد یاسین ملک نے کہا کہجموں کشمیر کو ایک بدترین پولیس ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں ہر مخالف سیاسی آواز کو فوجی اور پولیسی حربوں سے دبایا اور کچلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جیلوں اور تھانوں میں مقید کشمیری اسیروں کی حالت زار دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کے این ایس کے مطابق اسیران کی رہائی کے حق میں پریس انکلیو سرینگر میں مزاحمتی قیادت کی جانب سے ایک احتجاجی دھرنا دیا ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین کی ایک بڑی تعداد لبریشن فرنٹ کے دفتر آبی گزر کے باہر جمع ہوگئے جہاں سے انہوں نے پریس انکلیو تک مارچ کیا۔ پریس انکلیو پر احتجاجی ایک دھرنے پر بیٹھ گئے جب کہ کچھ دیر بعد لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک بھی اس میں شرکت کیلئے پریس انکلیو پر پہنچے۔ اس موقع پر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کے ساتھ ساتھ حریت (گ) کے مولوی بشیر عرفانی اور حریت (ع) کے قائد غلام نبی ذکی نے احتجاج سے خطاب کیا۔ اس احتجاج میں مشترکہ مزاحمتی قائدین و اراکین شوکت احمد بخشی، غلام رسول ڈار عیدی، عمر عادل ڈار، مشتاق احمدصوفی، شیخ عبدالرشید، بلال صدیقی، بشیر احمدکشمیری، رمیز راجہ، فاروق احمد سوداگر، محمدصدیق شاہ، بشیر احمد بویا، عبدالرشید بیگ، پیر غلام نبی، محمد یاسین عطائی، نثار حسین راتھر، اشرف بن سلام ،ساحل احمد وار، اشرف بن سلام، خواجہ فردوس،عمران احمد، بشیر اندرابی، فاروق احمد شیخ، گلزار احمد پہلوان، محمد شفیع لون، شاہد سلیم، عبدالحمید الہٰی، گلشن عباس، محمد یوسف بٹ، معراج الدین پرے، طارق احمد، غلام محمد ڈارنے بھی شرکت کی۔پرامن احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر کو ایک پولیس ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں کسی کو اپنی بات کہنے کا کوئی حق نہیں بلکہ جہاں ہر مخالف سیاسی آواز کو فوجی اور پولیسی طاقت سے خاموش کرنے کا دور دورہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ہزاروں کشمیری تہاڑ جیل جیسے بھارتی جیلوں اور امپھالہ جموں ،کورٹ بلوال، ادھمپور، کٹھوعہ،ہیر انگر اور کشمیر کی مختلف جلوں میں تکالیف برداشت کرنے پر مجبور کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۱۴ سال کے بچے سے لیکر ۸۰ سال کے بزرگ اور علیل خواتین تک کو جیلوں اور قید و بند میں جکڑا گیا ہے اور آج بھی روزانہ کی بنیاد پر مذید لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں کی نذر کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے اپنی فورسز اور ایجنسیوں جن میں این آئی اے اور ای ڈی بھی شامل ہے کو استعمال میں لاکر سید شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام، اکبرایاز، پیر سیف اللہ، راجہ میرج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی اور شاہد یوسف شاہ وغیرہ کو نام نہاد اور بے بنیاد کیسوں میں ڈال کر نیز سرینگر سے اغوا کرنے کے بعد دہلی کے تہاڑ جیل میں مقید کررکھا ہے جہاں ان کے ایام اسیری کو طول دینے کیلئے نت نئے حربے آزمائے جارہے ہیں۔اسی طرح درجنوں کشمیر ی جن میں ڈاکٹر قاسم فکتو، ڈاکٹر شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، شوکت احمد خان، عبدالغنیغونی، لطیف احمد واجا، جاوید احمد خان، محمود ٹوپی والا، افتخار مرزا، فیروز احمد، پرویز احمد،وغیرہ قابل ذکر ہیں کو عمر قید کی سزائیں سناکر پس زندان کررکھا گیا ہے اور ان میں سے کئی ایک کو اپنے گھروں سے سیکڑوں میل دور جیلوں میں ڈال کر مذید تکلیف میں مبتلا کررکھا گیا ہے۔کئی دوسرے کشمیری بھی ہیں جن میں جناب مسرت عالم بٹ، سراج الدین میر، عبدالرشیدمغلو، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف فلاحی، امیر حمزہ، محمد یوسف میر، طارق احمد ڈار، مولانا سرجان برکاتی، اسداللہ پرے، شوکت حکیم اور دوسرے قابل ذکر ہیں جنہیں کالے قوانین پی ایس اے یا دوسرے الزامات کے تحت جیلوں اور پولیس تھانوں کی نذر کردیا گیا ۔ مذید برآن کچھ اور بھی معصوم ہیں جن میں شہر خاص سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ بچے قابل ذکر ہیں کہ جنہیں ڈی ایس پی قتل کیس میں ملوث ٹھہرا کر جیل خانوں کی نذر کردیا گیا ہے جنہیں فرضی اور من گھڑت کیسوں میں الجھا کر زندان خانون کی زینت بنادیا گیا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ ظلم کی حد یہ ہے کہ ایک علیل خاتون محترمہ سیدہ آسیہ اندرابی کو دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہید نسرین کے ہمراہ کئی ماہ سے پولیس کے جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ بھارت سیاسی اسیروں سے متعلق جینوا کنونشن کا حصہ ہے اور اس حوالے سے اس ملک پر لازم تھا کہ قیدیوں کو تکلیف اور اذیتوں میں نہ ڈالتا لیکن انسانی حقوق کے ددوسرے معاملات کی مانند بھارت نے اس معاملے کو بھی فوجی اور پولیسی جوتوں تلے روندھ رکھا ہے اور دنیا میں کوئی اسے پوچھنے والا بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان کریم جیسا برکتوں والا مہینہ بھی ان کشمیری اسیروں کی حالت زار بدلنے میں کارگر نہیں ہوسکا ہے بلکہ اس مقدس ماہ کے اندر نام نہاد حکمرانوں نے اسیروں پر مظالم و مجابر کا سلسلہ مذید تیز تر کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے ان سیاسی مظلوم قیدیوں کی فوری رہائی کے متمنی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان اسیروں کو فی الفور رہا کردیا جائے تاکہ یہ لوگ بھی آنے والی عید اپنے اہل و عیال اور پیاروں کے ساتھ منانے کے قابل ہوسکیں۔دھرنے سے حریت قائدین مولانابشیر عرفانی اور غلام نبی ذکی نے بھی خطاب کیا اور کشمیریوں اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ایام اسیری کو طول بخشنے کے حربوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
Comments are closed.