میر واعظ نے کی زخمیوں کی عیادت
سرینگر:۲۶،مئی : / حریت(ع)کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال جاکر جمعہ کو مرکزی جامع مسجد سرینگر کے باہرپولیس اور فورسز کی اندھا دھند اور بلا اشتعارل فائرنگ کے نتیجے میں زخمی تین افراد کی عیادت کی اور ان کی خیر و عافیت دریافت کی اور اللہ تعالیٰ سے انکی فوری صحتیابی کی دعا کی۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق میرواعظ نے بعد میں مرکزی جامع مسجد سرینگر جاکر جمعہ کے روز پیش آئے افسوسناک واقعہ کیخلاف پائین شہر کی تاجر برداری کی جانب سے منعقدہ احتجاجی دھرنے میں شرکت کی اور ان کے ساتھ اپنی بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقعہ پر میرواعظ نے نہتے مظاہرین کیخلاف طاقت اور تشدد کے بلاجواز استعمال جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی اور کئی لوگوں کی آنکھوں میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے ان کی بینائی متاثر ہوئی ہے کو سرکاری دہشت گردی کا بدترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری فورسز نے جامع مسجد کے تقدس کی پروا کئے بغیر مسجد شریف کے ستونوں اور دیواروں کو شیلنگ کا نشانہ بنا گیا اور نہتے مظاہرین پر پیلٹ اور ٹیئر گیس شیلنگ کا بے دریغ استعمال کرکے انہیں شدید طور پر زخمی کردیا گیاوہ بربریت کی انتہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی جامع مسجد اور شہر خاص کو آئے روز نشانہ بنانا ریاستی حکومت کی سرکاری پالیسی بن گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانان کشمیر کو اپنے اس دینی اور روحانی مرکز سے وابستگی کو کمزور کریں وہ نہیں چاہتے کہ لوگ جامع مسجد کا رخ کریں وہ یہاں کی اجتماعیت کے مظاہرے سے خوفزدہ ہوکربوکھلاہٹ میں نہتے عوام کو اپنی طاقت کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔میرواعظ نے کہا کہ اگر حکومت نے جامع مسجد کو نشانہ بنانے اور لوگوں کیخلاف ظلم و زیادتی سے عبارت ، پر تشدد کارروائیوں پر مبنی پالیسی بند نہیں کی تو لوگ سڑکوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر یہاں کے نوجوانوں کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کیلئے تشدد کا سہارا لے رہی ہے اور ہماری پر امن تحریکی مزاحمت کو دبانے کیلئے مختلف حربے بروئے کار لا رہی ہے۔
Comments are closed.