شہر خاص میں بعد نماز جمعہ تشدد بھڑک اٹھا

پتھراؤ ،ٹیر گیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ ،درجنوں مضروب،میر واعظ برہم

سرینگر :۲۵،مئی / شہر خاص میں بعد نماز جمعہ شدید تشدد بھڑک اٹھا جس دوران پولیس کی ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ پتھراؤ کے نتیجے میں کئی اہلکار وں کو بھی چوٹیں آئیں ۔ادھر میر واعظ عمر فاروق نے الزام عائد کیا کہ جا مع مسجد کے گرد ونواح میں فورسز کی تعیناتی کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے جبکہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال قابلِ مذمت ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق شہر خاص میں اُس وقت تشدد بھڑک اٹھا ،جب بعد نما زجمعہ لوگوں نے مرکزی جا مع مسجد سرینگر سے ایک احتجاجی مارچ نکا لا ۔معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی مظاہرین اور پولیس وفورسز اہلکار نوہٹہ چوک میں ایکدوسرے سے اُلجھ پڑے ۔سٹی رپورٹر کے مطابق احتجاجی مظاہرین جونہی نوہٹہ چوک میں پہنچ گئے ،جہاں پہلے سے تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں نے اُنہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔اس دوران پولیس اورمظاہرین کے درمیان مزاحمت بھی ہوئی جس دوران پولیس نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی مظاہرین مشتعل ہوئے ،جنہوں نے پولیس و فورسز شدید خشت باری کی ۔اس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ در از ہوا ۔عینی شاہد ین نے بتایا کہ پولیس نے مرکزی جامع مسجد کے اندر ٹیر شل پھینکے اور پیلٹ فائر نگ کی جسکے نتیجے میں درجنوں افراد مضروب ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ بعد نمازجمعہ نوجوانوں اور فورسز کے درمیان نوہٹہ میں پھوٹ پڑے پُرتشدد احتجاجی کی لہر گوجوارہ ،راجوری کدل ،کاروڈارہ اور اسکے ملحقہ علاقوں تک پھیل گئی ۔شہر خاص میں مقیم لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے بے تحاشہ ٹیر گیس شلنگ کی اور مرچی گیس کا استعمال کیا جسکے نتیجے میں روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ادھر روزہ داروں نے الزام عائد کیا کہ پولیس وفورسز اہلکاروں نے جامع مسجد کے اندر بھی ٹیر گیس کے شل پھینکے اور پیلٹ فائرنگ بھی کی ،جسکی وجہ سے یہاں درجنوں افراد مضروب ہوئے جبکہ پتھراؤ کے باعث کئی اہلکاروں کو بھی چوٹیں آئیں۔شہر خاص میں بعد نماز جمعہ پھوٹ پڑے پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔معلوم ہوا ہے کہ نوہٹہ ،جامع مسجد مارکیٹ اور اسکے گرد نواح میں دکانیں وکاروباری ادارے بند ہوئے جبکہ مشتعل مظاہرین اور پولیس وفورس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ادھر میر واعظ عمر فاروق نے الزام عائد کیا کہ جا مع مسجد کے گرد ونواح میں فورسز کی تعیناتی کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے جبکہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال قابلِ مذمت ہے۔ایک بیان میں حریت(ع)نے ماہ مقدس کے بابرکت ایام بالخصوص جمعتہ المبارک کے موقعہ پر مسلمانان کشمیر کی سب سے بڑی عبادتگاہ مرکزی جامع مسجد سرینگر جہاں جمعہ کے موقعہ پر وادی کے اطراف و اکناف سے لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی اور میرواعظ کشمیر کے وعظ و تبلیغ سے استفادے کی غرض سے آتے ہیں کے ارد گرد بڑے پیمانے پر بلا جواز فورسز کی تعیناتی پرشدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعتہ المبارک کے موقعہ پر اس پورے علاقے کو جس طرح فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا جاتا ہے وہ وہاں حالات کو کشیدہ بنانے کا موجب بنتے ہیں ۔بیان میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ جان بوجھ کر جامع مسجد کے ارد گرد فورسز کو تعینات کرکے جامع مسجد کی مرکزیت کو زک پہنچانے کے ساتھ ساتھ امن عامہ کو درہم برہم کرنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔بیان میں نماز جمعہ کے بعد فورسزکی طرف سے پیلٹ اور ٹیئر گیش شیلنگ کے استعمال جس سے درجنوں افراد شدید زخمی ہو گئے اور بہت سے شل مرکزی جامع مسجد کے اندر جاکر گرے جس سے وہاں نمازیوں میں خوف اور ہراسانیوں کا ماحول پیدا ہوا کو فورسز کی اشتعال انگیز حرکت قرار دیتے ہوئے اسکی پر زور مذمت کی گئی۔

Comments are closed.