ماہ مقدس میں بھی گرد وغبار سے لپٹی خوردنوش کی اشیاء بازاروں میں فروخت
متعلقہ محکمہ جات گہری نیند میں ،لوگوں کی زندگیاں خطرے میں
سرینگر/25مئی / ماہ مقدس کے اس ماہ بھی وادی کے بازاروں میں گرد وغبار کے بیچ میں کھانے پینے تیار کردہ کی اشیاء کے علاوہ خربو وتربوز ،آنچار،گوشت اور دیگر خوردنوش کی اشیاء فروخت کی جارہی ہے جو مضر صحت ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر جو ادویات استعمال کرنے میں اول درجے پر ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء بغیر ڈھکے اور کسی پردے کے بغیر گرد وغبار اور دھول میں ریڈوں پر فروخت کی جاتی ہیں اور کشمیری کو کھانے پینے کے معاملے میں سب سے آگے ہیں گرد وغبار سے آلودہ چیزوں کو بغیر سوچے سمجھے اپنے اہل عیال کو دیتے ہیں ۔ریٖڈوں پر آج کل کاٹے ہوئے تربوز،خربوز،آنچار ،کھجور وغیرہ سرعام گرد وغبار سے لدھے ہوئی ہوتی ہیں جن کو عام لوگ خرید کر اپنے ایل عیال کو کھانے کیلئے دیتے ہیں ۔اسی طرح قصاب گوشت کو کھلے دکانوں پر فروخت کرنے کیلئے رکھتے ہیں اور گاڑیوں کا دھواں اور گرد وغبار سے اس کی حالت ہی بگڑ جاتی ہے جس کو کھانے کے بعد مہلک بیماریاں ہمیں جھکڑ لیتی ہیں ۔کشمیر میں گردوں کی بیماری کی سب سے بڑی یہی وجہ ہے کہ لوگ اب گھر کی چیزوں کے بجائے باہر کی چیزیں کھانے کے عادی بن گئے ہیں اور تلی ہوئی چیزیں زیدہ پسند کرتے ہیں جس کے استعمال کیلئے ناقص تیل استعمال کیا جاتا ہے دوسری اور ان کڑھائیوں میں گرد وغبار اس قدر جم جاتا ہے کہ اس میں ایک چیز تلنے والی اشیاء کھانے سے اچھا خاصا انسان اسپتال پہنچ جاتا ہے ۔
Comments are closed.