مخدوش حالات اور اقتصادی بحران کی مرکزی اور ریاستی سرکار ذمہ دار / علی محمد ساگر

ریاست کی مجموعی اقتصادی اورسیاسی حالات ناگفتہ دہ

سرینگر/25مئی / نیشنل کانفرنس نے ریاست میں بڑھتی ہوئی اقتصادی بدحالی ، معاشی ، ابتر حالات ، پریشان کن تجارتی حالات امن وقانون کے مخدوش اور امن ریاست میں غیر یقینت ، لاقانونیت حالات پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے کہا کہ ریاستی لوگ خصوصاً وادی کا عوام ایک پریشان کن دور سے گزر رہے ہیں اور موجودہ ناگفتہ دہ حالات کو موجودہ مخلوط سرکار کے ساتھ ساتھ مرکزی سرکار کو بھی مورد الزام ٹھہرا تے ہوئے کہا کہ جان بوج کر اور ایک گہری سازش کے تحت ریاست کے عوام کو ان حالات سے دوچار کرنا ایک در پردہ سازش ہے تاکہ ریاست کا عوام اپنے جمہوری اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جائے جو ہم سے طاقت کے بل بوتے پر چھین لئے گئے ہیں ۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار علی محمد ساگر نے آج پارٹی ہیڈ کواٹر پر پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں اور غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا اس میں کوئی دو رائی نہیں کہ جب سے مرکز میں موجودہ سرکار وجود میں آئی تب سے ملک کے ساتھ ساتھ ریاست کی معاشی اور اقتصادی حالات دن بہ دن ابتر ہوتے جارہیں ۔ کاروباری لوگوں کو ، تاجر پیشہ اور دکاندارحضرات کو جی ایس ٹی لگا کر ہر سطح پر بے کار بنا دئے گئے ۔ آج ریاست کے کاروباری لوگوں کی حالات نہایت ہی کمزور دوسری طرف بد امنی لاقانونیت کی وجہ سے ریاست کا اہم آمدن شعبہ ، سیاحتی شعبہ گزشتہ چار سالوں سے دم توڈ رہا ہے ۔ ریاست کے لاکھوں لوگوں کا ذریعہ معاش یہی شعبہ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا گزشتہ چار سالوں دوران ریاست کے لوگوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے گئے ، طاقت کے بل بوتے پر اہل کشمیر کو زیر کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی اور اہل کشمیر کے حق و صداقت کی آواز دبانے کی کوشش جاری ہے ۔ لیکن باغیور اور باضمیر اہل کشمیر کی آواز آج تک نہ دب سکی اور نہ مستقبل میں ریاست کے لوگوں کو اپنے جمہوری اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جا سکے ۔ لیکن نیشنل کانفرنس اور اس کی پُر خلوص قیادت نے ہمیشہ ظلم وستم اور جبر استبداد کے خلاف جنگ لڑا ہے اور نیشنل کانفرنس کی تحریک ہی ظلم وستم کے خلاف ، ناانصافی کے خلاف بابائے قوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے شروع کی ۔ اجلاس میں پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے خطابات میں کہا کہ جب اہل کشمیر غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے ہوئے تھے اور ہم پر 118 سالوں تک شخصی راج کی غلام تسلط کی گئی تھی ۔ انہوں نے مرکزی سرکار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر پالیسی کی طرف اپنا لچک دار رول اپنا کر کشمیریوں کو ان آئینی اور جمہوری حقوق اور مراعت کو فلفور واپس کیا جائے جو 09 اگست1953 کے بعد طاقت کے بل بوتے پر ہم سے چھین لئے گئے ہیں اور جس کی وجہ سے آج ریاست میں نا مساعد اور سنگین حالات پیدا ہوئے ہیں ۔ بدقستمی سے مرکزی سرکاروں نے آج تک 45 کالے قوانین بھی ریاست پر ٹھوس دئے گئے جو آئین ہند اور آئین کشمیر کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بد امنی اور لاقانونیت کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب ریاست کے لوگوں کے ساتھ مرکزی رہنماؤں نے تحریری طور پر جو وعدے کئے ہیں ان کوپورا کیا جائے جن میں خاص طور پر اندرونی خود مختاری ، 1952 کی پوزیشن اور دہلی ایگریمنٹ شامل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دفعہ 370 کو 35 اے کے تحت ریاست کو دئے گئے آئینی اور جمہوری مراعت کو ہر سطح پر بحال کیا جائے جن کے تحت آنجہانی مہاراجہ ہری سنگھ نے مرکزی کے ساتھ رشتہ جوڈا ہے اور فوجی کمک بھی وارد کشمیر عمل میں لائی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پی ڈی پی بی جے پی سرکار لوگوں کے مشکلات دور کرنے اورلوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدے پورا کرنے میں ہر سطح اور ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے ۔ یہ سرکار صرف اور صرف ناگپور آقاؤں کے بے ساکیوں پر کھڑی ہے اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر حکمرانی کرتی ہے ۔بند شیں عام ، تعلیمی ادارے اکثر و بیشتر بند لوگ ضروریاتی زندگی سے محروم ، کرپشن کا بازار عروج پر ، گیران بازاری عام ، یہ سرکار اور اس کے حصہ دار گٹالوں میں غرق ہوچکی ہے اورلوگ اس سرکار سے چھٹکارا پانے کے انتظار ہے میں ہے ۔ اجلاس میں لیڈران نے کارکنوں اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت کی مضبوطی کے لئے متحدد ہوجائیں اور کشمیریت کو ، کشمیریت کی وحدت کو ، کشمیریت کی انفرادیت کو زک پہچانے والے عناصروں کے خلاف متحدد ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی کی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پالیسی ہر سطح پر ناکام ہوچکی ہے ۔ آ ج ملک کے دانشور ، اقتصادی ماہرین ، بڑے بڑے تاجر اور امن پسند رہنما ں کھلے عام میں مووی کی فرقہ پرستی پالیسی پر نالاں ہے۔ لیڈران نے کہا کہ ریاست کے موجودہ تباہ کن حالات کی ذمہ دار مرکزی سرکار کی غلط پالسیوں اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے ۔ اسی دوران کے پارٹی کے سینئر لیڈران ایم ایل اے اوڈی و سابق وزراء محمد شفیع اوڈی ، کفیل الرحمان سابق ایم ایل اے ٹنگ ڈار و چیئرمین کفیل الرحمان نے سرحدوں پر جاری تناؤ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اور ہندوستان اور پاکستان فوری طور پر 2003 فائر بندی پر عمل کرنے کی اپیل کی ۔

Comments are closed.