جموں اور کشمیر میں جنگجوؤں کے پے در پے حملوں کے بعد سیکورٹی ہائی الرٹ

حساس مقامات پر سیکورٹی بڑ دھا دی گئی ،فورسز کو متحرک رہنے کی ہدایات

سرینگر/25مئی / ٹنل کے آر پار جنگجوؤں سرگرمیوں میں تیزی کے بعد مزید ممکنہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر وادی کشمیر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ جس دوران فورسز کو متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔اسی دوران سرحد وں پر بھی سیکورٹی کو مزید چوکیس کیا گیا ہے اور بھاری دراندازی کے خدشات کے پیش نظر بی ایس ایف کو چوکس رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔سی این آئی کے مطابق گزشتہ شب سرینگر کے صفاکدل اور جموں کے بس اسٹینڈ میں گرینیڈ حملوں کے بعد جمعہ کو ضلع کولگام میں فورسز اہلکار سے رائفل چھیننے کی ناکام کوشش اور فوجی کیمپ پر گرنیند حملے کے بعد جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کیلئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کو چوکس رہنے کی ہدایات دی گئی ہے ۔پولیس کے ایک سنیئر افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ وادی کشمیر اور جموں میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں اچانک تیزی آنے کے بعد سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ فورسز اہلکاروں کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری کی حالت میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کیمپوں اور پولیس تھانوں کے آس پاس سیکورٹی بڑھانے کے فیصلے کو بھی حمتی شکل دی جا رہی ہے ۔ اسی دوران جموں اور سرینگر شہروں میں تمام حساس مقامات پر ٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ سرحدی علاقوں میں بھی گشت تیز کر دیا جا رہا ہے۔ قصبوں اور دوسرے حساس مقامات پر بھی چوکسی برتی جا رہی ہے۔ سرینگر جموں شاہراہ کے مختلف مقامات پرگاڑیوں کی چیکنگ ہو رہی ہے جب کہ کئی حساس مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر سرحدی اضلاع خاص کر کپواڑہ، سانبہ ، پونچھ اور راجوری میں بھی فورسز کو متحرک کیا گیا ہے۔ جب کہ ان اطلاعات کے بعد بھی اس بار سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے جا رہے ہیں کہ نسف درجن سے زیادہ جنگجو دراندزی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

Comments are closed.