مرحومین میرواعظ مولانا محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون کی برسیاں، کشمیر ہاؤس اسلام آباد پاکستان میں تقریب کا اہتمام

جائز آواز دبا نا ممکن نہیں ،مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل تک رواں جدوجہد کو جاریرکھا جائیگا :مقررین
سرینگر:۲۳،مئی:کے این این / آر پار مزاحمتی لیڈر شپ نے مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل تک رواں جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز کی پابندیوں اور نوجوانوں کی گرفتاریوں سے جائز آواز کو دبا نا بھارت کیلئے ناممکن ہے ۔مقررین نے مرحومین میرواعظ مولانا محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر کیلئے جو گرانقدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں وہ کشمیر کی عصری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیگی۔کے این این کے مطابق حریت کانفرنس (ع) پاکستانی زیر انتظام کشمیر چپٹر،کشمیر لبریشن سیل اورپاکستانی زیر انتظام کی حکومت کے زیر اہتمام ہفتہ شہادت کے سلسلے میں کشمیریوں کے ممتاز دینی و سیاسی رہنما شہید ملت میرواعظ مولانا محمد فاروق ، شہید حریت خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا اور شہید ملت، شہید حریت اور شہدائے حول سمیت جملہ شہدائے جموں وکشمیر کو ان کی شہادت اور تحریک آزادی کشمیر کے تئیں گرانقدر قربانیوں پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا گیا ۔تقریب کی صدارت کے فرائض پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے انجام دیئے جبکہ اس موقعہ پر جو سرکردہ مزاحمتی رہنما موجود تھے ان میں جے کے ایل ایف ترجمان رفیق احمد ڈار، مسلم کانفرنس کے سینئر رہنما صغیر چغتائی، پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فیصل راٹھور، کشمیرلبریشن سیل کے سیکریٹری ، حریت کانفرنس کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر چپٹرکے کنونیئر سید فیض نقشبندی، حریت رہنما سید یوسف نسیم ، غلام محمد صفی وغیرہ شامل ہیں۔مقررین نے اپنے خطابات میں شہید رہنماؤں اور شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر کیلئے جو گرانقدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں وہ کشمیر کی عصری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ شہید ملت جہاں کشمیر کے ایک بلند پایہ مذہبی اور روحانی پیشوا تھے اور پوری زندگی انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے اور کشمیری عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کرانے کیلئے انتھک کوششیں اور جدوجہد کیں وہیں انہوں نے اس راہ میں بے پناہ مصائب اور صعوبتیں بھی برداشت کیں اور تادم دم شہادت اپنے اصولی موقف پرچٹان کی طرح ڈٹے رہے ۔انہوں نے کہا کہ شہید ملت نے ہمیشہ جامع مسجد سرینگر کے منبر و محراب سے کشمیری عوام کیخلاف ہو رہے مظالم اور ان کے تئیں رچائی جارہی سازشوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور اسی دینی مرکز سے دین اسلام کی عظیم تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی مبنی برحق جدوجہد کی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔مقررین نے شہید حریت خواجہ عبدالغنی لون کو ایک نڈر، جرأتمند اور بے باک رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہید رہنما ریاست کے صف اول کے قائدین میں سے تھے اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے قیام کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی میں اُن کا کردار سیاسی بصیرت ،دوراندیشی اور تجربہ ہمیشہ دوسروں کیلئے مشعل راہ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہید لون صاحب جو۲۱ مئی ۲۰۰۲ء کو مزار شہداء سرینگر کے عوامی اجتماع میں شہید کئے گئے نے کبھی بھارتی ظلم و جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا اور کشمیریو ں کی سربلندی کیلئے پوری استقامت اور عزیمت کے ساتھ برسر جدوجہد رہے۔مقررین نے کشمیر میں بھارتی مظالم ، نہتے لوگوں کیخلاف ظلم و تشدد ، مزاحمتی رہنماؤں کی آئے روز کی خانہ و تھانہ نظر بندی اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کو مسدود کرنے، نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ اور گرفتاریوں کیخلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک عوام کی منصفانہ جدوجہد جاری و ساری رہے گی۔مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر میں ظلم و بربریت اور حریت پسند قائدین کیخلاف آئے روز کی پابندیوں اور نوجوانوں کیخلاف جبر و تشدد کے استعمال اور حقوق انسانی کی شدید پامالیوں کاسنجیدہ نوٹس لیں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیریوں کیخلاف اپنی جارحیت کو فوری طور بند کرے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام مظالم کا جس حوصلے اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں وہ ایک دن جموں وکشمیر کی آزادی پر منتج ہوگا۔دریں اثنا حریت چیرمین میرواعظ کی ہدایت پر سینئر حریت رہنما مختار احمد وازہ نے بجبہاڑہ میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں گرینیڈ حملے میں زخمی افراد کی ہسپتال جاکر عیادت کی جبکہ حریت کانفرنس کے ایک اور وفد جس میں مشتاق احمد صوفی، پیر غلام نبی اور فاروق احمد سوداگرشامل تھے نے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال جاکر گزشتہ دنوں گاندربل اور ترال میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں زخمی کئے گئے افراد کی عیادت کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

Comments are closed.