محمد یاسین ملک چھ روزہ بعد رہا

موصوف کی بار بار گرفتاری ،جمہوریت کی بیخ کنی:ترجمان

سری نگر:۲۲،مئی: لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو پیر کے روز ۶روز کی اسیری کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق پچھلے تین برس سے خاص طور پر یاسین ملک آئے روز جیل میں ہی رکھے جارہے ہیں ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق اس ماہ بھی انہیں ٹھیک یکم رمضان المبارک کو گرفتار کیا گیا تھا اور آج کئی دن کی اسیری کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق پچھلے برس رمضان کا لگ بھگ پورا مہینہ انہوں نے جیلوں میں ہی گزارا تھا جو بہرصورت انتہائی مذموم ہے۔ دراصل کشمیر میں کہیں بھی کچھ بھی ہوجائے تو حکمران اور انکی انتظامیہ سب سے پہلے یاسین ملک کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں جس سے اصلاً ان حاکموں کی جمہوریت کش ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔ ان معاملات کو جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کی بیخ کنی سے تعبیر کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بار بار کی ان گرفتاریوں نے یاسین ملک کی صحت کو مخدوش بنادیا ہے اور انکی صحت بہت تیزی کے ساتھ گرتی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد حکمرانوں اورا نکی پولیس کو کم از کم ماہ رمضان کریم کے تقدس کا کچھ پاس و لحاظ کرتے ہوئے اپنی انسانیت کش پالیسیاں تبدیل کرنی چاہئیں اور انسانوں کو زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچانے کے اپنے رویے کو بدلنے کی سعی کرنی چاہئے۔ادھر شوپیان میں عام لوگوں پر فوجیوں کی بلاجواز فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے یاسین ملک نے کہا کہ افطار کے وقت ڈی کے پورہ شوپیان میں افطار کے وقت فائرنگ جس میں کئی لوگ بشمول خواتین گولیوں کا نشانہ بنائی گئیں ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوجی کہ جن کے ہاتھ کشمیری معصوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اب ہمیں ’’جبری افطار آپریشن ‘‘ میں شامل کرانا چاہتے ہیں اور گزشتہ شب جب شوپیاں کے لوگوں نے اس میں شمولیت سے انکار کیا تو ان پر اندھا دھند گولیاں اور پیلٹ کی بارش کردی گئی۔ اس خونین واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ بھارتی قابض افواج و فورسز کے نزدیک نہ ہی کشمیریوں کے مذہبی احساسات کی کوئی قدر و قیمت ہے اور نا ہی انسانی زندگی ان کیلئے کوئی معنی رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سدبھاؤنا افطاری پروگراموں کے بجائے بھارتی آرمی کو اپنے فوجیوں کیلئے تربیتی پروگرام ترتیب دینے چاہئے جن میں انہیں انسانی اقدار ، عزت اور زندگی کے بارے میں کچھ سبق دئے جاسکیں۔
کشمیری اسیران کی حالت ناگفتہ بہہ

Comments are closed.