مخلوط سرکارکی برخواستگی سیاسی عدم استحکام اورانتشار کاعلاج :ڈاکٹرفاروق

گورنرراج کیلئے موزو ن وقت
بھاجپالیڈروں کے زمین گھوٹالوں پرمحبوبہ مفتی خاموش کیوں

سرینگر:۲۲،مئی : / تین مرتبہ ریاست کے وزیراعلیٰ رہ چکے خاص اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ کامانناہے کہ موجودہ صورتحال جموں وکشمیرمیں گورنرراج نافذکرنے کیلئے موزون ہے کیونکہ بقول موصوف پی ڈی پی اوربی جے پی مخلوط سرکارہرمحاذپرناکام ثابت ہوئی ہے ۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سابق وزیراعلیٰ نے خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیاکودئیے ایک تفصیلی انٹرویوکے دوران کہاکہ اب بھاجپالیڈروں کے مبینہ طورپرزمین گھوٹالوں میں ملو ث ہونے کی بات سامنے آئی ہے اوراس معاملے پرریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اوراُنکی سربراہی والی سرکارنے چپ سادھ لے رکھی ہے ۔ڈاکٹرفاروق کاکہناتھاکہ اُنکی جماعت کبھی گورنرراج کی حامی یاطرفدارنہیں رہی ہے لیکن جموں وکشمیرکی موجودہ صورتحال اسبات کی متقاضی ہے کہ یہاں گورنرراج نافذ کیاجائے ۔اُنہوں نے کہاکہ ریاست میں جوسیاسی عدم استحکام کی صورتحال پائی جاتی ہے ،اُس پرقابوپانے کاایک ہی علاج ہے ،اوروہ گورنرراج کانفاذہے ۔ڈاکٹرفاروق نے کہاکہ موجودہ مخلوط سرکارکادورانتشارپرمبنی رہاہے کیونکہ سرکارمیں شامل جماعتوں کے درمیان نہ توکوئی تال میل ہے اورنہ کوئی ہم آہنگی ۔انہوں نے خبردارکیاکہ ریاست میں سیاسی ،عوامی اورانتظامی سطح پرانتشارپھیلتاجارہاہے ،اسلئے ضرورت اسبات کی ہے کہ ریاستی اسمبلی کومعطل رھ کریہاں گورنرراج نافذ کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ میری جماعت مانتی ہے کہ ریاست کومزیدانتشارسے بچانے کیلئے گورنرراج لاگوکیاجائے تاکہ ریاست کے لوگ جمہوریت پریقین کرسکیں ۔سابق وزیراعلیٰ کاکناتھاکہ بھاجپاکے دوسینئرلیڈران اسمبلی اسپیکرنرمل سنگھ اورنائب وزیراعلیٰ کویندرگپتاکانام زمین گھوٹالوں میں سامنے آیاہے ،لیکن مخلوط سرکارخاموش ہے ،اوریہ خاموشی سمجھ سے بالاترہے۔انہوں نے کہاکہ جموں میں زمین سے جڑے دومعاملات سامنے آئے ،اوراسکاسرکارنے آج تک کوئی نوٹس نہیں لیاجبکہ زمین کی خریدوفروخت سے جڑے یہ معاملے غیرقانونی تھے ۔ڈاکٹرفارو ق کاکہناتھاکہ سرکارکی جانب سے کچھ نہیں کیاگیابلکہ خاموشی اختیارکی گئی ،اورصرف فوج نے اس پربات کی ۔ڈاکٹرفاروق نے انٹرویوکے دوران کہاکہ ریاست کے تینوں خطوں جموں ،کشمیراورلداخ میں لوگ یہی مانتے ہیں کہ اُنھیں صرف سبزباغ دکھائے گئے اورزمینی سطح پراس سرکارنے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ ریاستی عوام میں یہ تاثرپایاجاتاہے کہ ریاست میں کوئی گورننس نہیں ہے اورنہ یہ سرکارتعمیراتی وترقیاتی محاذوں پرکوئی کام کررہی ہے۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ مفتی سعیدمرحوم کی وفات کے بعدجب ریاست میں تین مہینوں کیلئے گورنرراج رہاتوسب بہترہورہاتھا۔انہوں نے کہاکہ میں سمجھتاہوں کہ موجودہ صورتحال ریاست میں گورنرراج کیلئے موزون ہے ۔

Comments are closed.