جسٹس لویا کی موت کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی داخل
جسٹس لویا کی موت کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی داخل
نئی دہلی، 21 مئی :بمبئی لایرس ایسو سی ایشن نے آج ایک ریویو پٹیشن داخل کیا، جس میں سپریم کورٹ سے اسپیشل سی بی آئی جج بی ایچ لویا کی پر اسرار موت کی آزادانہ چانچ کی عرضیاں مستر د کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی گئی ہے۔
دسمبر 2014 کو خصوصی سی بی آئی جج بی ایچ لویا کی موت ہوگئی تھی، جب وہ مبینہ سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کی سماعت کررہے تھے،جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر امت شاہ ملزم ہیں۔
سپریم کورٹ رجسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ بمبئی لایرس ایسو سی ایشن کی طرف سے دائر کی گئی عرضی پر یکم جولائی کے بعد سماعت متوقع ہے، جب گرمی کی تعطیل ختم ہوگی۔
واضح رہے کہ 19 اپریل کو سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں دائر کی گئی مفاد عامہ کی پانچ عرضیوں مسترد کردیا تھا، جن میں جسٹس لویا کی پر اسرار موت کی منصفانہ جانچ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے یہ کہتے ہوئے عرضیاں مسترد کر دی تھی کہ جج لويا کی موت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی ان درخواستوں میں کوئی ‘میرٹ’ نہیں ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھاکہ "بی ایچ لويا کی موت کے معاملے میں شک کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔ لہذا معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دینے کی کوئی بنیاد نہیں بنتی ہے۔
جسٹس چندرچوڑ نے کہا تھا کہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبہ کی آڑ میں عدلیہ کی شبیہ کو بھی تار تار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ کاروباری اور سیاسی جنگ مفاد عامہ کی درخواستوں کے ذریعے نہیں لڑی جا سکتی اور متعلقہ درخواستوں میں ‘میرٹ’ کا فقدان نظر آتا ہے۔
یو این آئی .
Comments are closed.