پلوامہ میں ہتھیار چھینے کی کوشش ناکام ،پولیس کا دعویٰ

جنگجوؤں کا پولیس چوکی پر فائرنگ ،کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا :ایس ایس پی پلوامہ

پلوامہ:۲۱،مئی: رمضان سیز فائر کے بیچ سعید پورہ پوامہ میں جنگجو ؤں نے پولیس چوکی پر حملہ کیا اور یہاں تعینات پولیس اہلکاروں کی رائفلیں چھینے کی کوشش کی ۔ایس ایس پی پلوامہ محمد اسلم چودھری نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوؤں نے پولیس چوکی پر فائرنگ کی جوابی کارروائی میں اُنکی ہتھیار چھینے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ۔کشمیر نیو زنیٹ ورک کو پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سعید پورہ پلوامہ میں پیر کے روز دن دھاڑے جنگجو نمودار ہوئے جس دوران انہوں نے یہاں اقلیتی طبقوں کی حفاظت کیلئے قائم کی گئی پولیس چوکی پر حملہ کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں نے پولیس چوکی پر دھاوا بول دیا اور فائرنگ کی جبکہ مسلح جنگجوؤں نے یہاں تعینات پولیس اہلکاروں کے ہتھیار چھینے بھی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا ۔ایس ایس پی پلوامہ محمد اسلم چودھری نے بتایا کہ جنگجوؤں کے ایک گروپ نے مذکورہ علاقے میں قائم پولیس چوکی پر فائرنگ کی ۔انہوں نے کہا کہ جنگجو ؤں کا مقصد ہتھیار چھینا تھا ،تاہم یہاں تعینات چوکس پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی میں فائرنگ کی اور ہتھیار چھینے کی کوشش ناکام بنا دی ۔ان کا کہناتھا کہ طرفین کے مابین گولی باری کے نتیجے میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ۔فائرنگ کے فوراً بعد فوج وفورسز نے علاقے کا محاصرہ کرلیا فرار ہوئے جنگجو کی تلاش شروع کردی گئی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ۔یا درہے کہ گزشتہ ہفتے سرینگر میں پے درپے ہتھیار چھینے کے واقعات رونما ہوئے ۔16مئی کو شہر سرینگر کے مضافاتی علاقہ حضرت بل سرینگر میں واقع وادی کشمیر کی سب سے بڑی دانشگاہ (کشمیر یونیورسٹی) کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار پر بدھ کی دوپہر نامعلوم افراد نے حملہ کیا ،جس دوران حملہ آؤروں نے پولیس اہلکار کو دبوچ لیا اور اُسکی سروس رائفل اُڑا کر فرار ہوگئے ۔یہ واقعہ یونیورسٹی کے رومی دروازے کے باہر رونما ہوا تھا ۔17مئی کو ڈلگیٹ میں3رائفلیں غائب ہوئی تھیں ۔ان واقعات کے بعد سیکورٹی الرٹ بھی جاری کیا گیا ،تاہم پولیس کو کوئی سراغ ابھی تک نہیں ملا ۔ اسلحہ چھینے کے واقعے کے حوالے سے سابق وزیر اعلیٰ اور ممبر اسمبلی بیروہ بڈگام عمر عبداللہ کا ردِ عمل بھی سامنے آیاتھا ۔انہوں نے واقعے کے حوالے سے اپنے ردِ عمل میں کہا تھاکہ کشمیر میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے ۔

Comments are closed.