حول سری نگرمیں 60سے زیادہ معصومین کے قتل عام کاسانحہ

28برس گزرجانے کے باجودانصاف کی گلیاروں میں عدل کامتلاشی

سری نگر:۲۱،مئی:/ ’’حول سری نگرمیں 60سے زیادہ معصومین کے قتل عام کاسانحہ ‘‘28برس گزرجانے کے باجودانصاف کی گلیاروں میں عدل کامتلاشی ہے۔مقامی حقوق انسانی کارکن محمداحسن اونتونے سال2013میں اس قتل عام سے متعلق ایک عرضی مقامی حقوق انسانی کمیشن میں دائرکردی ،اورکمیشن کی اپنی تحقیقات میں یہ بات منکشف ہوئی کہ اس واقعے میں سی آرپی ایف کی69ویں بٹالین کے ایک ڈی ایس پی اورایک انسپکٹرسمیت15اہلکارملوث تھے لیکن ابتک ملوث اہلکاروں کوانصاف کے کٹہرے میں کھڑانہیں کیاگیا۔کشمیرنیوزنیٹ ورک کے مطابق کشمیروادی میں سیاسی اورعسکری سطح پرعلیحدگی پسندانہ جدوجہدشروع ہونے کے کچھ ماہ بعد21مئی1990کونامعلوم اسلحہ برداروں نے میرواعظ جموں وکشمیراورعوامی ایکشن کمیٹی کے بانی میرواعظ مولوی محمدفاروق کوگھرکے اندرگولیوں کانشانہ بناکرجاں بحق کردیاتوپورے کشمیربالخصوص شہرخاص میں کہرام مچ گیا،اورہزاروں کی تعدادمیرواعظ کے عقیدتمندجگہ جگہ سڑکوں پرنکل کرکے واویلاکرنے لگے ،اورلاکھوں کی تعدادمیں عقیدتمندمیرواعظ منزل واقع نگین حضرتبل میں جمع ہوئے ۔شہیدملت میرواعظ مولوی محمدفاروق کی میت کو مزارشہداء واقع عیدگاہ سری نگرپہنچانے ایک بڑے جلوس جنازہ نگین سے برآمدہوا۔جلوس جنازہ جب اسلامیہ کالج واقع حول سرینگرکے نزدیک پہنچاتویہاں بڑی تعدادمیں موجودسی آرپی ایف اہلکاروں نے جلوس کوروکنے کی کوشش کی ،جس پرجلوس جنازہ میں شامل افراداورفورسزاہلکاروں کے درمیان بحث وتکرارہوئی ،اوراسی دوران یہاں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں ۔دیکھتے ہی دیکھتے حول اوراسکے نزدیکی علاقوں کی سڑکیں اورگلی کوچے لالہ زارہوگئے ،اوردرجنوں کی تعدادمیں مردوزن خون میں لت پت گرگئے ۔13جولائی1931کے بعدیہ سرزمین کشمیرپرہونے والاپہلاایساقتل عام تھاجہاں سرکاری فورسزکی فائرنگ کے نتیجے میں بڑی تعدادمیں عام شہری جاں بحق اوردیگرمتعددزخمی ہوگئے ۔سی آرپی ایف اہلکاروں جن کاتعلق 69ویں بٹالین سے تھا،کی جانب س کی گئی اندھادھندفائرنگ کے نتیجے میں 52عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کی ابتدائی طورپرتصدیق کی گئی جبکہ دیگردرجنوں زخمی ہوگئے جن میں سے بعدازاں کئی دم توڑبیٹھے ۔قتل عام کے اس واقعے کی مناسبت سے پولیس تھانہ نوہٹہ میں ایف آئی آرزیرنمبر35/1990کے تحت کیس درج کیاگیا۔مقامی حقوق انسانی کارکن محمداحسن اونتوکے مطابق ایف آئی آردرج کرنے کے بعدپولیس نے اس قتل عام کے حوالے سے کوئی تحقیقاتی کارروائی عمل میں نہیں لائی ،اورنہ ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کیلئے پولیس نے کوئی کارروائی عمل میں لائی ۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ میرواعظ مولوی محمدفاروق کے قتل کی مناسبت سے بھی اسی روزایک کیس نزدیکی تھانے میں درج کیاگیا،اوراس واقعے میں کئی افرادکوملو ث قراردیاگیا،جن میں سے کچھ تاحیات قیدکی سزاکاٹ رہے ہیں لیکن حول قتل عام کی تحقیقات کے حوالے سے ریاستی پولیس کارول غیرذمہ دارانہ رہاجسکے باعث 28برس گزرجانے کے باجودنہ ملوث اہلکاروں کوسزاملی اورنہ متاثرہ کنبوں کوانصاف ملا۔محمداحسن اونتوکے بقول انہوں نے چیئرمین انتڑنیشنل فورم فارجسٹس اینڈہیومن رائٹس کی حیثیت سے سال2013میں مارچ کی26ویں تاریخ کوحول قتل عام کی مناسبت سے ایک عرضی ریاستی حقوق انسانی کمیشن میں دائرکرتے ہوئے کمیشن سے اس قتل عام کی تحقیقات کرنے کی استدعاکی ۔ کمیشن نے حکومت ہندکے داخلہ سیکرٹری ،ڈی آئی جی سی آرپی ایف،ڈی جی پی ،ایس ڈی پی اؤنوہٹہ اورایس ایچ اؤزڈی بل کے نام الگ الگ نوٹسیں جاری کردیں لیکن ایک سال تک کسی نے ایس ایچ آرسی کی نوٹس کاجواب نہیں دیا۔محمداحسن اونتوکے مطابق اسکے بعدریاستی حقوق انسانی کمیشن نے اپنے طورپرحول قتل عام کی انکوائری عمل میں لائی ۔انہوں نے کہاکہ اس دوران ریاستی پولیس کی سی آئی ڈی ونگ نے ایس ایچ آرسی میں داخل کی گئی اپنی رپورٹ میں حول کیس کوبندکرنے کی جانکاری دی کہ پچاس سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کاکوئی سراغ نہیں مل سکاجبکہ سی آئی ڈی کی رپورٹ میں یہ بتایاکہ 21مئی 1990کوحول میں سی آرپی ایف اہلکاروں کواسوقت فائرنگ کرناپڑی جب کرفیوکے دوران ملی ٹنٹوں نے اُن پرگولیاں چلائیں ۔اُدھرحقوق انسانی کمیشن کی پولیس تحقیقاتی ونگ نے اپنی انکوائری رپورٹ میں کمیشن کویہ جانکاری فراہم کردی کہ سی آرپی ایف کی اپنی کورٹ آف انکوائری میں اسبات کاخلاصہ کیاگیاکہ حول قتل عام میں سی آرپی ایف کے15اہلکارملوث تھے جن میں ایک ڈی ایس پی لاکھن سنگھ اورایک سب انسپکٹرمختارسنگھ بھی شامل ہے۔تاہم کورٹ آف انکوائری کی بناء پرملوث افسروں اوراہلکاروں کیخلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں سی آرپی ایف رپورٹ میں کوئی بات درج نہیں تھی ۔مقامی حقوق انسانی کارکن کے بقول نوہٹہ پولیس تھانہ میں حول قتل عام سے متعلق درج ایف آئی آرزیرنمبر35/1990پرکوئی کارروائی آگے نہیں بڑھائی گئی ۔چیئرمین انتڑنیشنل فورم فارجسٹس اینڈہیومن رائٹس محمداحسن اونتونے مزیدکہاکہ حول قتل عام کی مناسبت سے 2ماہ بعدحکومتی سطح پر ٹائم باؤنڈانکوائری کاعلان کیاگیالیکن یہ انکوائری کبھی عمل میں نہیں لائی گئی ۔انہوں نے کہاکہ حق اطلاع قانون کے تحت دائردرخواست کے جواب میں ڈویژنل کمیشنرکشمیرکی جانب سے یہ جانکاری راہم ک گئی کہ حول قتل عام کے بارے میں پولیس نے ایف آئی آر35/1990کے تحت کیس درج کیاہے لیکن اسبات کی کوئی جانکاری نہیں کہ آیااس واقعے کی کوئی جوڈیشل یامجسٹرئیل انکوائری عمل میں لائی گئی کہ نہیں ۔محمداحسن اونتونے بتایاکہ انہوں نے حول قتل عام کے حوالے سے ایس ایچ آرسی میں اپنی کوشش جاری رکھی ،اور2مارچ2018کوانہوں نے اسی کوشش کے تحت ایک جواب دعویٰRejoinderداخل کرتے ہوئے کمیشن سے کی استدعاکی کیونکہ آئی جی پی کرائم برانچ کو حول قتل عام میں شامل رہے فورسزاہلکاروں کیخلاف دفعہ302کے تحت کیس درج کرنے کی ہدایت دی جائے ۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنی جانب سے اسبات کی کوشش جار ی رکھیں گے کہ حول قتل عام میں ملوث رہے فورسزاہلکاروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لاکرمتاثرہ کنبوں کوانصاف فراہم کیاجائے۔

Comments are closed.