امن وامان کی خا طر مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر :ڈاکٹر فاروق

انسانی جانوں کا اتلاف قابلِ تشویش ،جنگ وجدل تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں

سرینگر:۱۹،مئی:/ نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان قائد ثانی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سرحدوں کے آر پار جاری قیمتی جانوں کی زیاں پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کل آر پار گولہ بھاری سے سرحدوں کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں پر بے تحاشا گولہ بھاری کی وجہ سے نو قیمتی جانوں کی تلافی پر نہایت رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے جملہ سوگواراں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے روحوں کی شانتی کے لئے دعا کی ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کے آر پار سرحدوں کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں کو گزشتہ دہائیوں سے نہایت مشکلات اور مصائب کا سامانا کرنا پڑ رہا ہے اپنے مکانات ، املاق ، جائیداد کی تلافی ہوتی جاتی ہے ۔ فصلوں کو نقصان ہوتا ہے اور ان کے بچے پڑھائی سے بھی محروم رہتے ہے اور اکثر یہ لوگ ہجرت کر کے محفوظ جگہوں پر زندگی گزر بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نیشنل کانفرنس کی عظیم قیادت مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے زندگی بھر ہندوستان اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر افہام و تفہیم خصوصاً اہل کشمیر کی رائے کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کرتا رہا کیونکہ اہل کشمیر ہی اس سرزمین کے اصلی مالک اور اول فریق ہے۔ انہوں نے ہندپاک کی سربراہوں دونوں ممالک کے صدور ، وزیر عظموں ، امن پسند رہنماؤں اور فوجی قیادت سے اپیل کی کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر تمام حل طلب مسائل اولین فہرست میں خصوصاً مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پہلی کرے کیونکہ جس قدر اس سیاسی مسائلے کو حل کرنے میں طول دیا جائے اس قدر ریاست کے لوگوں کو مصیبت اور مشکلات کاعتاب میں رہنا پڑھے گا اور آرپار سرحدوں کے لوگوں کی قیمتی جانیں تلف ہوتی جائے گے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر جنگ کا سماں ہونا کسی بھی صورت میں ہندوستان اور پاکستان کے لئے ٹھیک نہیں بلکہ یہ صورت جاری رہنے سے ہند پاک کے لئے بربادی اور تباہی کا سامان ہوگا ۔ جنگ کسی بھی صورت میں مفید نہیں بلکہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ۔ اب تک ہند پاک کے درمیان پانچ جنگیں لڑی گئی لیکن حاصل خاک ۔ انہوں نے موجودہ مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ وہ کشمیرپالیسی کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرے اور یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدام اُٹھائے جائیں اور پاکستان کے ساتھ امن بات چیت شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ ہند پاک کی دوستی علم بردار رہی ہے اور مضبوط پاکستان کو مضبوط ہندوستان کی ضمانت قرار دیا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ واجپائی اور مشرف جی کے اُس اصول پر عمل پیرا ہوجائے جو انہوں نے 2003 میں فائر بندی کا اعلان کیا تھا ۔ جس کے تحت اہل کشمیر کو کافی سالوں تک راحت ملی ۔ آج بھی ہم اس فائر بندی پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہے ۔

Comments are closed.