کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکن اور من کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت :میرواعظ

ملٹری اپروچ سے مسئلہ کشمیرکا حل تلاش کرنا ممکن نہیں ، آخر کب تک کشمیر قبرستان آباد کئے جائیں گے
سرینگر:۱۹،مئی:کے این این/ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکن اور من کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ایک جائز جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق حراست میں لینے سے قبل میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ حکمرانوں نے روایتی حربہ استعمال کرکے آج پھر پورے شہر میں کرفیو، قدغنوں، اور بندشوں کا نفاذ کرکے جے آر ایل کے پر امن احتجاجی دھرنے کے پروگرام کو ناکام بنانے کی مذموم کوشش کی ۔ میرواعظ نے کہا کہ آج کے پر امن دھرنے سے کشمیری عوام بھارت خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ جموں وکشمیر کے عوام جس مصیبت اور ظلم و بربریت کا سامنا کررہے ہیں اُسکی ذمہ دار براہ راست حکومت ہند کی فوجی پالیسی ہے جو طاقت اور قوت کے بل پر کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکن اور من کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ایک جائز جدوجہد میں مصروف عمل ہیں اور ان کی یہ جدوجہد سیاسی مراعات ، مفادات کیلئے نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر کا مسئلہ کوئی امن وقانون یا بجلی ، پانی یا سڑک کا مسئلہ ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ اگر حکومت ہند یہ محسوس کرتی ہے کہ ملٹری اپروچ سے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے تو یہ اسکی شدید غلط فہمی ہے کیونکہ یہ سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی کشمیری عوام کی مرضی اور امنگوں کے مطابق حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئیٹنل یا ریل اور کوئی اقتصادی مسئلہ نہیں ہے۔میرواعظ نے کہا کہ یہاں کے عوام نے اپنے حق کے حصول کیلئے بے پناہ جانی و مالی قر بانیاں پیش کی ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو انکی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔یہ نعرہ اور مطالبہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ جموں وکشمیر کے ہر شہری کا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آخر کب تک کشمیریوں کو چن چن کر مارا جائیگا اور یہاں قبرستان آباد کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہی کشمیری عوام شدید مصائب و مشکلات میں گرفتار ہیں اور گزشتہ کل ہی اسی مسئلہ کی بنیاد پر سرحدوں پر گیارہ اور نہتے افراد مارے گئے جس میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ۔آخر کب تک کشمیریوں کا قتل عام جاری رہیگا۔انہوں نے کہا کہ واقعی اگر مودی سرکار سنجیدہ ہے اور وہ حقیقت سننا چاہتی ہے تو یہ واقعہ ہے کہ رواں تحریک میں کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوان شامل ہو رہے ہیں ۔ کشمیر کے حوالے سے بھارتی عوام کو غلط تصویر پیش کیا جاتی ہے اور عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج مشترکہ قیادت اور کشمیری عوام کی جانب سے پر امن دھرنے سے یہی پیغام دینا تھا کہ بھارت کے عوام اور حکومت اصل حقائق کو سمجھیں اور یہاں ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کی پالیسی تبدیل کرکے پہلے جموں وکشمیر سے فوجی انخلاء کے ساتھ ساتھ تمام کالے قوانین ، افسپا ،پی ایس اے وغیرہ کے خاتمے کا عمل شروع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے حالات پیدا کئے جائیں جس سے بھارت پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان جامع مذاکرات کیلئے راہ ہموار ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ آج جبکہ پوری دنیا تلخیوں اور اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کے قریب آرہی ہے اور متنازعہ مسائل حل کئے جارہے ہیں ۔ ساؤتھ کوریا اور نارتھ کوریا ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں کیا وجہ ہے کہ دنیا کاایک سب سے بڑا قدیم مسئلہ جو United Nations کے ایجنڈے میں موجود ہیں اس کے منصفانہ حل کیلئے بھارت پاک قیادت قدم کیوں نہیں اٹھاتی۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر ایک ایسا واحد خطہ ہے جہاں 8 لاکھ سے زائد فوجی جماؤ ہے اور میں جناب مودی کے ضمیر سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر کب تک کشمیریوں کی آواز کو فوجی قوت اور ظلم و جبرکے ہتھکنڈوں سے دبانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عارضی اور مصنوعی اقدام اس مسئلہ کو دفن نہیں کرسکتا۔

Comments are closed.