سیاسی مستقبل کافیصلہ: کشمیری عوام کی من کی بات :میرواعظ
کشمیر لا اینڈ آرڈر ، مراعات ، مفادات ، سڑک ، بجلی ، پانی کا مسئلہ نہیں
سری نگر:۱۸،مئی: حریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے حکومت ہندوستان پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی لا اینڈ آرڈر ، مراعات ، مفادات ، سڑک ، بجلی ، پانی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہاں کے عوام کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے جس کوصرف یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہی حل کیا جاسکتا ہے۔کے این این کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں عوام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت(ع) چیرمین نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کشمیر کے دورے پر آرہے ہیں ۔ میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہاکہ ہم مودی سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ ہر ماہ ریڈیو اور ٹی کے ذریعے بھارت کے عوام سے ’’ من کی بات‘‘ پروگرام میں مخاطب ہوتے ہیں آج آپ کشمیری عوام کے من کی بات سنیں اور کشمیری عوام چاہے وہ جموں، لداخ، کرگل یا ریاست کے کسی بھی خطے میں رہتے ہوں ان سب کے من کی بات ایک ہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا خود فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور ان وعدوں کا وفا چاہتے ہیں جو آپ کے پیشروؤں نے بھارت میں نہیں بلکہ کشمیر آکر سرینگر کے تاریخی لالچوک میں یہاں کے عوام سے کئے ہیں اور ہم بھارت کے وزیراعظم سے کہنا چاہتے ہیں کہ اسی لالچوک میں 19 مئی کو جمع ہوکر کشمیری عوام کو اپنے من کی بات کرنے کا موقعہ دیجئے۔میرواعظ نے کہاکہ ہم حکومت ہندوستان سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کو مسئلہ کشمیر کی حقیقت تسلیم کرنی چاہئے اور تب تک آپ کی جانب سے اٹھایا گیا کوئی بھی عارضی اقدام (Temporary Measures) نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان نے رمضان المبارک کے مہینے میں کشمیریوں کیخلاف گولی نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ رمضان کے بعد پھر کشمیریوں کے قتل و غارت کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔یہ کون سا CBM ہے، اگر آپ واقعی اعتماد سازی کے اقدامات کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو پہلے جموں وکشمیر سے فوجی انخلاء کے ساتھ ساتھ تمام کالے قوانین ،AFSPA, PSA وغیرہ کے خاتمے کا عمل شروع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے حالات پیدا کئے جائیں جہاں مسئلہ کشمیر سے جڑے سبھی فریقین بھارت ،پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان ایک بامعنی Process شروع ہو تب جاکریہ عمل آگے بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے عارضی اور مصنوعی نوعیت کے اقدامات کے بجائے اس مسئلہ کو یہاں کے عوام کے جذبا ت اور احساسات کے مطابق حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ میرواعظ نے 21 مئی1990 کو کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری عوام کے ایک بے باک ترجمان اور بلند پایہ دینی و سیاسی رہنما اور جامع مسجد سرینگر کے منبر و محراب کو خاموش کیا گیا اور جو قائد یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتا تھا کو شہید کیا گیا اور اسی دن حول میں60 سے زائد نہتے کشمیریوں کو بڑے بے دردی کے ساتھ شہید کرکے جلیانوالا باغ کی تاریخ دہرائی گئی اور اس سانحہ کی یاد میں حسب سابق21 مئی کو پورے جموں وکشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہیگی۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ شہادت منانے کا مقصد یہی ہے کہ ہم ان عظیم شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مشن کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔میرواعظ نے کہا کہ قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ہمارے نوجوان اپنا گھربار، عزیز و اقرباء اورکیریئر چھوڑ کر تحریک آزادی میں شامل ہو رہے ہیں اور یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ یہ کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک ہے اور یہی بات ہم حکومت ہندوستان کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت اور حساسیت کو سمجھ کر اس مسئلہ کے ضمن میں عارضی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کے بجائے اس کو مستقبل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے بامعنی اقدامات اٹھائے جائیں۔میرواعظ نے غزہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں نہتے افراد کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام غم و اندوہ کی اس گھڑی میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی شہہ پر فلسطینی عوام کیخلاف اسرائیل کی جارحیت بدترین دہشت گردی ہے جس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے ساتھ دنیا کے ہر مسلمان کے جذبات وابستہ ہیں اور فلسطینی عوام کے قتل عام کے ضمن میں عالمی برادری خصوصاً مسلم ممالک کی خاموشی حد درجہ افسوناک ہے۔انہوں نے OIC پر زور دیا کہ وہ فلسطینی اور کشمیری عوام کا قتل عام رکوانے کیلئے آگے آئیں۔ میرواعظ نے اعلان کیا کہ 19 مئی کو پوری قوم لالچوک سرینگر کا رخ کرے گی جہاں پر امن دھرنے کے ذریعے دنیا تک پیغام پہنچایا جائیگا کہ کشمیری عوام تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک نہ اس مسئلہ کو یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا اور21مئی کو مزار شہداء عیدگاہ سرینگر کے جلسہ عام میں تحریک آزادی اور شہداء کے مشن کے تئیں تجدید عہد کیا جائیگا۔
Comments are closed.