بھاجپاکوبڑاجھٹکا:کانگریس کی عرضی عدالت عظمیٰ میں منظور
تحریک اعتمادپرووٹنگ کیلئے صبح11بجے ہوگاکرناٹک اسمبلی کااجلاس شروع
سری نگر:۱۸،مئی:/ مرکزاور20ریاستوں میں بالواسطہ یابلاواسطہ برسراقتدارجماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کواُسوقت ایک بڑاسیاسی جھٹکالگاجب سپریم کورٹ آف انڈیانے کرناٹک کے گورنرکی جانب سے بھاجپاکوسرکاربنانے کی دعوت دئیے جانے اوریدیوروپاکوبطوروزیراعلیٰ حلف دینے کے اقدام پرعملاًسوال اُٹھاتے ہوئے یدیوروپاکوسنیچرکی سہ پہر4بجے کرناٹک اسمبلی میں تحریک اعتماد پر وؤٹ کرانے کا حکم دیا۔اس دوران ایک اوراہم فیصلے کے تحت عدالت عظمیٰ نے یہ بھی واضح کردیاکہ بی ایس یدی یورپا حکومت نہ تو کوئی پالیسی کا فیصلہ کرے گی اور نہ ہی اینگلو، انڈین شخص کو اسمبلی میں رکن نامزد کرسکتی ہے ۔اس دوران ایک اہم پیش رفت کے بطورکرناٹک کی یدیوروپاسرکارکی کابینہ نے کرناٹک اسمبلی کااجلاس سنیچرکوصبح 11بجے طلب کرلیا،جس میں عبوری اسپیکرکاانتخاب عمل میں لانے کے بعدتحریک اعتمادپرووٹنگ کرائی جائیگی۔کے این این مانٹرنگ ڈیسک کے مطابق 12مئی کوکرناٹک اسمبلی کیلئے انتخابات کرائے گئے تھے اور15مئی کوظاہرکردہ نتائج کے تحت بھاجپاکو104نشستوں پرکامیابی ملی جبکہ کانگریس کو78اورجے ڈی ایس کو38اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی تاہم کوئی بھی جماعت واضح اکثریت یعنی112سیٹیں حاصل نہیں کرسکی ۔اسمبلی انتخابات ے نتائج سامنے آتے ہی کرناٹک میں اسوقت سیاسی کشمکش کی صورتحال پیداہوئی جب سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے بھاجپانے حکومت بنانے کادعویٰ ریاستی گورنروجوبھائی والاکے سامنے پیش کردیاتاہم اسی دوران ایک اہم پیش رفت کے تحت کانگریس نے سرکاربنانے کیلئے جے ڈی ایس کوحمایت دینے کااعلان کردیا،جسکے بعددونوں جماعتوں کے لیڈروں پرمشتمل ایک وفد کرناٹک کے گورنرسے ملنے گیا،اوریہاں جے ڈی ایس لیڈرنے کانگریس کی حمایت سے سرکاربنانے کادعویٰ پیش کردیا۔کرناٹک کے گورنروجوبھائی والانے اسی رات بھاجپاکوحکومت بنانے کی دعوت دی،اوراگلے ہی روزگورنرنے بی ایس یدیوروپاکوکرناٹک کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے عہدے اوررازداری کاحلف دلایا۔کانگریس نے گورنر کے اقدام کوغیرآئینی مانتے ہوئے 15مئی کورات دیر گئے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے یہاں ایک عرضی دائرکرتے ہوئے بی ایس یدیوروپاکی حلف برداری پرروک لگانے کی استدعاکی لیکن سپریم کورٹ نے ایساکوئی حکم صادرنہیں کیابلکہ اس معاملے کی سماعت کیلئے17مئی کی تاریخ مقررکرتے ہوئے کرناٹک کی نومنتخب بھاجپاسرکارکوہدایت دی کہ وہ اُس خط کوعدالت عظمیٰ میں پیش کرے جواس جماعت نے سرکاربنانے کیلئے ریاستی گورنرکوپیش کیاتھا۔سنیچرکی صبح کانگریس کی جانب سے دائرعرضی کی سماعت سپریم کورٹ کے تین سینئرججوں جسٹس اے کے سیکری، جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ کے سامنے ہوئی ۔فریقین کے قانونی صلاح کاروں نے عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کے سامنے اپنے اپنے دلائل پیش کئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق طرفین کے وکلاء کی انب سے پیش کردہ دلائل کوسننے کے بعدسپریم کورٹ نے بھاجپاسرکارکو کرناٹک اسمبلی میں سنیچروارکو شام4 بجے تحریک اعتماد پر وؤٹ کرانے کا حکم دیا ۔جسٹس اے کے سیکری، جسٹس ایس اے بوبڑے اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ نے کانگریس،ے ڈی (سیکولر) اتحاد کی درخواست پر یہ عبوری حکم دیا۔ عدالت عظمی نے ریاست کی بی جے پی حکومت کی طرف سے خفیہ وؤٹنگ کرانے کی مرکزی حکومت کی درخواست مسترد کر دی ۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سب سے پہلے اسمبلی کا عارضی اسپیکر( پروٹیم اسپیکر) مقرر کیا جائے گا۔ سنیچرکوسہ پہر4بجے بجے سے پہلے تمام نومنتخب ممبران اسمبلی کو حلف دلایا جائے اور 4بجے یدیوروپاسرکارکواعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔عدالت عظمیٰ نے کہاکہ تحریک اعتماد کے عمل کی ویڈیوگرافی نہیں کرائی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس دوران بی ایس یدی یورپا حکومت نہ تو کوئی پالیسی کا فیصلہ کرے گی اور نہ ہی اینگلو، انڈین شخص کو اسمبلی میں رکن نامزد کرے گی۔عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بینچ نے کرناٹک کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو تمام ممبران اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمی نے اکثریت کیلئے ضروری ممبران اسمبلی کی حمایت نہ ہونے کے باوجود کسی ایک بڑی پارٹی کو گورنر کی طرف سے حکومت بنانے کے لئے مدعو کئے جانے کے معاملے پر 10 ہفتے بعد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ۔جسٹس اے کے سیکری کی صدارت والی تین ججوں کی بینچ نے سوال کیا کہ وجو بھائی والا نے حکومت بنانے کیلئے کانگریس ،جے ڈی ایس اتحاد کی بجائے یدی یورپا کو کیوں منتخب کیا ؟ جبکہ کانگریس، جے ڈی ایس اتحاد کے پاس ایوان میں اکثریت ہے۔ اس کے جواب میں بی جے پی کی طرف سے عدالت میں پیش مکل روہتگی نے کہا کہ کانگریس، جے ڈی ایس اتحاد ناپاک ہے۔سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ یہ نمبروں کا کھیل ہے اور گورنر کو دیکھنا چاہئے کہ کس پارٹی کے پاس سب سے زیادہ نمبر ہے۔ جسٹس سیکری نے کہا کہ فلور ٹیسٹ اس کا سب سے بہتر آپشن ہوسکتاہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ فلور ٹیسٹ ہفتہ کو ہی کیوں نہیں ہوسکتا ؟ اس پر کانگریس نے کہا کہ وہ فلور ٹیسٹ کیلئے تیار ہے۔ کانگریس نے اپنے ممبران اسمبلی کی سیکورٹی کا مطالبہ کیا۔ وہیں بی جے پی کی طرف سے مکل روہتگی نے کہا کہ انہیں اور وقت چاہئے ، اس پر عدالت نے کہا کہ اس کیلئے مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔اس دوران کرناٹک اسمبلی میں بی جے پی حکومت کے حق میں تحریک اعتمادکا اجلاس سنیچرکودن میں11بجے شروع ہوگا۔یہاں کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کے بعد بی جے پی حکومت کی سربراہی کرنے والے بی ایس یدی یورپا نے نامہ نگاروں کو بتا یا کہ سنیچر کو اکثریت ثابت کرنے کی سپریم کورٹ کی ہدایت پر کابینہ نے گورنر سے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں صد فی صد یقین ہے کہ اکثریت ثابت ہو جائے گی۔یدی یو رپا نے کہ تمام منتخب اراکین سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ شام تک شہر لوٹ آئیں اور پارٹی کے صدر دفتر میں ملیں۔
Comments are closed.