مودی کی آمد :سرحدوں پر جنگ کا سماں

ارنیا،آر ایس پورہ ،سامبا اور سیالکوٹ سیکٹروں میں تباہ کن مارٹر شلنگ اور گولی باری
آر پار ایک خاتون ،تین بچوں اور ایک فورسز اہلکار سمیت 9افراد لقمہ اجل ،25زخمی ،متعدد مویشی بھی ہلاک
درجنوں عمارات کو آر پار نقصان ،پُر خطر علاقوں میں تعلیمی ادارے بند ،سرحدی علاقوں ے شہریوں کی نقلِ مکانی شروع

جموں:۱۸،مئی:کے این این/ وزیر اعظم ہند نریندرا مودی کے دورہ ریاست سے ایک روز قبل صوبہ جموں کے 2اضلاع میں4 سیکٹروں می ارنیا،آر ایس پورہ ،سامبا اور سیالکوٹ سیکٹروں میں ہند پاک افواج کے درمیان ہلاکت خیز فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں آر پار 9 افراد ہلاک ہوئے جن میں 3بچے ،میاں بیو ی ،2خواتین ،ایک بی ایس ایف اہلکار شامل ہے۔بر صغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے آمنے سامنے آنے اور ہلا کت خیز فائرنگ ومارٹر شلنگ کے باعث دونوں اطراف 20سے زیادہ دیہات متاثر ہوئے جس دوران کئی مویشی بھی ہلاک ہوئے جبکہ کئی چوکیوں اور رہائشی ڈھانچوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔اس دوران لوگوں میں خوف وہراس پایا جارہا ہے جبکہ لوگ متاثرہ علاقوں سے ترک سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ادھر لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے جبکہ سرحدی علاقوں میں احتیاطاً تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند رکھنے کا فیصلہ لیاگیا ۔سرحدی علاقوں میں الرٹ جاری کیا گیا جبکہ تمام محکموں اور طبی ونیم طبی عملے کو سریع الحرکت رکھا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ور ک کے مطابق صوبہ جموں دو اضلاع کی سرحدی علاقوں میں اُس وقت خوف وہراس اور اضطرا بی کیفیت کی لہر دوڑ گئی جب دو ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان کی فوج ارنیا،آر ایس پورہ اور سامبا سیکٹروں میں آمنے سامنے آگئی ۔بتایا جاتا ہے کہ رات کی تاریکی میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان آتشی گولہ باری اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا ،جو جمعہ کی دوپہر تک وقفے وقفے سے جاری رہا ۔اس سلسلے میں ذرائع نے معلوم ہوا ہے کہ جموں اور سامبا اضلاع میں بین الاقوامی سرحد پر جمعرات اور جمعہ کی نصب شب طرفین کے مابین فائرنگ اور ماٹر شلنگ کا سلسلہ شروع ہوا ،جو وقت گزر نے کے ساتھ شدید ہوتی گئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف ) کا ایک اہلکار لقمہ اجل بن گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ یہ اہلکار ابتدائی گولہ باری کے دوران ہی زخمی ہوا تھا ،جو بعد ازاں فوجی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔پاکستانی فوج کی فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں میاں ،بیوی سمیت4عام شہری بھی ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں،فورسز اہلکاروں کے ساتھ ساتھ بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ۔جموں میں مقیم دفاعی ترجمان اور بی ایس ایف حکام کا کہناپاکستانی رینجرز کی طرف سے جمعرات اور جمعہ کی نصف شب کو جموں کے ارنیا،آر ایس پورہ اور سامبا سیکٹروں میں شدید گولہ باری کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں چار عام شہری اور بی ایس ایف کانسٹیبل ہلاک جبکہ قریب ایک درجن دیگر زخمی ہوئے ۔ مہلوک بی ایس ایف کانسٹیبل کی شناخت سیتا رام اپادھیائے ساکنہ جھارکھنڈ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اپادھیائے ارنیاسیکٹر میں اپنی چوکی میں ڈیوٹی دے رہا تھا کہ اس دوران وہ گولی لگنے سے شدید طور پر زخمی ہوا، وہ اسپتال لے جانے کے دوران دم توڑ گیا‘۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق آر ایس پورہ کے چندو چک میں پاکستان کی جانب سے فائر کئے گئے مارٹر گولے کے پھٹنے کی وجہ سے میاں بیوی ہلاک ہوئے۔ ان کی شناخت ترسیم لال اور اس کی بیوی منجیت کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ چندو چک میں لوگوں نے ترسیم اور اس کی بیوی کی ہلاکت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر ایمبولنس گاڑیاں فراہم کی گئی ہوتیں تو دونوں کی جان بچ سکتی تھی۔ ان کے کنبے کے ایک فرد نے کہا ’سرحد پر جنگیں معمول بن گئی ہیں۔ کبھی وہاں سے فائرنگ ہوتی ہے تو کبھی یہاں سے ۔ ہم بیچ میں پھنس گئے ہیں۔ سرکار میں شامل لوگ خود بنگلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم یہاں روز مر رہے ہیں۔ ابھی تک سرکار کی طرف سے ایک بھی اہلکار یہاں نہیں آیا۔ ہمیں اپنی گاڑی کا استعمال کرکے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ووٹ لینے کے لئے تو سب آتے ہیں‘۔ آر ایس پورہ کے علاوہ ارنیہ میں بھی دو لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ ان کی شناخت 60 سالہ ست پال ولد امرناتھ اور جگ موہن ولد سادھو رام کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ قریب دس زخمیوں کو گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال جموں میں داخل کرایا گیا۔ مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ سبھی پانچ ہلاکتیں جموں کے آر ایس پورہ اور ارنیا سیکٹروں میں ہوئی ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ایک درجن ہے جن کو مختلف اسپتالوں بالخصوص جی ایم سی جموں میں داخل کرایا گیا ہے‘۔ بی ایس ایف ذرائع نے بتایا ’فائرنگ کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکارسرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کا موثرجواب دے رہے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد پار فائرنگ کی وجہ سے تین مختلف سیکٹروں میں دس دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ سب ضلع مجسٹریٹ کٹھوعہ نے فائرنگ کے پیش نظر سرحدی علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ادھر پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے 3 بچوں سمیت4 پاکستانی لقمہ اجل بن گئے ۔ڈان اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی افواج نے صبح سویرے سیالکوٹ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی جسکے نتیجے میں4عام شہری لقمہ اجل اور10دیگر افراد زخمی ہوئے۔ہلاک شدگان میں نور حسین کی اہلیہ کلثوم، بیٹی مہوش، صفیہ اور بیٹا حمزہ شامل ہیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان بتایا گیا ہے کہ بھارت نے ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی فائرنگ کے جواب میں پنجاب رینجرز کے جوانوں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے بھارتی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا جہاں سے حملے کا آغاز کیا گیا تھا۔پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری جانب اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے مطابق رواں برس بھارتی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 21 تک جاپہنچی ہیں، جن میں 15 مرد اور 6خواتین شامل ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران119 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ایس ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ برس 2017 میں جاں بحق افراد کی تعداد 46 تھی جبکہ 262 افراد زخمی ہوئے تھے۔دونوں ممالک کی افواج کے درمیان آرپار آتشی گولہ باری کے نتیجے میں دونوں اطراف20دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ کئی رہائشی ودیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے ۔رپورٹس کے مطابق آر پار فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں سرحدی دیہات میں خوف وہراس پایا جارہا ہے جبکہ لوگ متاثرہ علاقوں سے ترک سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تازہ فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے باعث کشیدگی اور تناؤ میں کافی شدت پائی جارہی ہے ۔واضح رہے کہ سنہ2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

Comments are closed.