اسرائیلی جارحیت کیخلاف صدائے احتجاج بلند

نمازجمعہ کے بعدشہرسری نگرسمیت شہر ودیہات میں کئی مقامات پرجلوس برآمد

سری نگر:۱۸،مئی:/ اسرائیلی جارحیت کیخلاف صدائے احتجاج بلندکرتے ہوئے نمازجمعہ کے بعدشہرسری نگرسمیت کئی مقامات پرجلوس برآمدہوئے جبکہ مساجد،خانقاہوں اورامام باڈوں میں علمائے دین نے معصوم فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے خبردارکیاکہ مسلم اُمہ کی نااتفاقی کے باعث صیہونی طاقتیں بے لگام ہوچکی ہیں ۔اس دوران مقررین نے کشمیراورفلسطین کی صورتحال پرسخت تشویش ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اوراؤآئی سی کی خاموشی مجرمانہ ثابت ہوئی ہے۔کے این این کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے اسرائیلی جارحیت اورمعصوم فلسطینیوں کے قتل عا م کیخلاف دئیے گئے احتجاجی پروگرام کے تحت جمعہ کے روزنمازجمعہ کے فوراًبعدسری نگرشہرمیں کئی مقامات پرمزاحمتی گروپوں کے زراہتمام احتجاجی جلوس نکالے گئے ۔ہاتھوں میں اسرائیل وامریکہ مخا لف اورفلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی ویکجہتی ظاہرکرنے والے بینراورپلے کارڈس اُٹھائے مظاہرین نے اسرائیل اورامریکہ کیخلاف فلک شگاف نعرے بلندکئے جبکہ اس دوران مظاہرین نے اسلام اورکشمیرمیں جاری تحریک کے حق میں بھی نعرے بلندکئے ۔موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبریشن فرنٹ کے قائدین،اراکین اور زندگی کے کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد فرنٹ نائب چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ کی قیادت میں مدینہ چوک میں جمع ہوئی جہاں سے انہوں نے لال چوک کی جانب ایک پرامن ریلی نکالی۔ اس احتجاجی ریلی میں اور لوگوں کے ساتھ ساتھ فرنٹ کے مشتاق اجمل، شیخ عبد الرشید، بشیر احمد کشمیری، محمد صدیق شاہ، مشتاق احمد خان، اشرف بن سلام، پروفیسر جاوید، جاوید احمد بٹ ،غلام محمد ڈار، محمد حنیف، امتیاز احمد، معراج الدین پرے، علی محمد اژھن، محمد مقبول ٹپلو، مشتاق احمد گلو اور دوسرے لوگ بھی شامل تھے۔ ہاتھو ں میں فلسطین کے حق میں نیز اسرائیلی بربریت کے خلاف نعروں پر مبنی پلے کارڈ تھامے اور اسی حوالے سے فلک شگاف نعرے بلند کرتا ہوا یہ جلوس بڈشاہ چوک پر پہنچا جہاں اس نے ایک پرامن دھرنے کی صورت اختیار کی۔اس احتجاجی دھرنے سے اور لوگوں کے علاوہ فرنٹ نائب چیئرمین نے بھی خطاب کیا۔اپنے خطاب میں بشیر احمد بٹ نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے کیا گیا حالیہ قتل عام صرف اور صرف ایک نسل کشی کا معاملہ ہے جسے بدقسمتی سے عالمی برادری خاص طور پر امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک انسانی المیہ ہے جسے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی شہہ دے رہی ہے۔یہ پرامن احتجاجی جلوس اور دھرنا بعدازاں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا ۔اس دوران اتحاد المسلمین کے اہتمام سے نماز جمعہ کے فوراً بعد مسجد سجادیہ چھتہ بل سے معصوم فلسطینیوں پر حالیہ اسرائیلی بربریت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا جس میں تنظیم سے وابسطہ کارکنوں کے علاوہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرین نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اسرائیل اور شیطان بزرگ امریکہ کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔احتجاجیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھائے رکھے تھے جن پر القدس لنا، مرگ بر اسرائیل اور مرگ بر امریکہ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کررہے تھے کہ وہ اسرائیل اور بھارت کی بربریت کے خلاف عملی اقدامات اٹھائیں۔دریں اثناء اُدھرامریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کو دنیائے اسلام کے خلاف اعلان جنگ سے تعبیر کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن نے امریکی فیصلے کے خلاف فلسطینی عوام کے ہمہ گیر احتجاج کے دوران اسرائیل کی بربریت کی سخط الفاظ میں مذمت کی۔موصولہ بیان کے مطابق اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی عوام کے قتل عام کے خلاف بڈگام میں انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے کہا کہ امریکی سفارت خانے کیا یروشلم منتقلی مشرقی وسطیٰ میں ایک نئی آگ بھڑکانے کا دانستہ امریکی منصوبہ ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس گیم پلان کو ناکام بنانے کیلئے مسلمان ممالک غیرت دینی کا واضح مظاہرہ کریں۔ قبلہ اول کے خلاف امریکی عزائم کے پیش نظر امت مسلمہ کو تحریک کے اس نازک موڑ پر اخوت اسلامی کا بھر پور مظاہرہ کرنا ہوگا۔ آغا حسن نے کہا کہ امریکہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کے امکانات کو معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، سفارت خانہ کی منتقلی کا اقدام اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔

Comments are closed.