تنگ آمد بہ جنگ آمد: سسرال میں زیادتیوں کی وجہ سے بہو نے کی خودکشی

پولیس نے ملزموں کے خلاف ابھی تک کارروائی کیوں نہیں کی /لواحقین
ایک ماہ قبل دریائے جہلم میں چھلانگ لگانے والی جونیئر انجینئر کے لواحقین نے مبینہ طورپر پولیس کی جانبداری کے خلاف پریس کالونی میں احتجاجی مظاہرے کئے اور مطالبہ کیا کہ جونیئر انجینئر کے سسرال والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لا کر انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔ اے پی آئی نمائندے کے مطابق پریس کالونی سرینگر میں اس وقت سنسنی دوڑ گئی جب ایک ماہ پہلے جونیئر انجینئر مدثر عزیز جس نے نامعلوم وجوہات کی بنا ء پر دریائے جہلم میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا کے لواحقین نے پولیس پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ احتجاج کرنے والے لواحقین کا کہنا تھا کہ ابھی تک پولیس کی جانب سے مدثرہ عزیز کے سسرال والوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی اس کی نعش کو دریائے جہلم سے نکالنے کیلئے اقدامات اٹھا ئے جا رہے ہیں۔ مدثرہ عزیز کے بھائی عرفان عزیز نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حیرت اس بات کی ہے کہ مدثر عزیز کو اپنے سسرال والوں نے بژہ پورہ سے زینہ کدل تک جانے کی اجازت کیسے دے دی اور وہ اس بارے میں کیسے لا علم رہے ۔ مذکورہ جونیئر انجینئر کے بھائی کایہ بھی کہنا تھا کہ ایسے کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر انکی بہن کو خود کشی کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدثرہ عزیر کے شوہر جاوید احمد اور اس کے والدین سے اس کی پوچھ تاچھ ہونی چاہیے ۔ احتجا ج کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھا ئے جائیں ۔

Comments are closed.