ویڈیو: جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں کے خلاف یک طرفہ سیز فائر کا اعلان کرے مرکزی حکومت : محبوبہ مفتی

سرینگر؍۹مئی؍کے این این؍؍ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ’ یکطرفہ جنگ بندی کی متفقہ تجویز پیش ‘ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیر میں خون خرابہ بند کرانے کیلئے مفاہمت پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں ۔انہوں نے وزیر اعظم مودی کو کشمیر سے متعلق واجپائی کا اپروچ اپنا نے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایجنڈا آف الائنس کے روڑ میپ ہونے سے سبھی سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا ۔وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کی ہلاکت اور عسکری رجحان پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر کی صحیح صورتحال نئی دہلی میں پیش کی جائے ،تومرکزی حکومت جنگ بندی تجویز ضرور غور کرے گی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق کل جماعتی اجلاس کے آخر پر ایس کے آ ئی سی سی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اجلاس کے حوالے سے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے کشمیر کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ کل جماعتی اجلاس میں وادی کشمیر میں ہورہی ہلاکتوں ،نوجوان نسل کی جانب سے عسکری راستہ اختیار کرنے اور دیگر امورات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ اجلاس کی ایک اچھی بات یہ تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں نے پی ڈی پی اور بھاجپا کے درمیان ایجنڈا آف الائنس جو کہ ایک نظر یاتی دستاویز ہے ،اُس پر عمل در آمد کیوں نہیں ہوتا ہے ؟۔انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کا ایجنڈا آف الائنس کا بصیرت سے بھر پور دستاویز میں جموں وکشمیر میں قیام امن ،ترقی اور خوشحالی کیلئے روڑ میپ واضح ہے اور اُس روڑ میپ پر عمل در آمد کرنے کی ضرورت ہے ۔ان کا کہناتھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر زور دیا اگر ایجنڈا آف الائنس پر عمل در آمد ہوتا ہے ،تو کشمیر میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں قیام امن کیلئے ایجنڈاآف الائنس میں تمام پہلو کا ذکر کیا گیا ،جس میں اقتصادی خوشحالی ،روایتی راستوں کو کھولنے کی وکالت ،اعتماد سازی کے اقدامات ،پاؤ ر پروجیکٹوں کی واپسی ،سیاسی مسئلے کا حل ،مفاہمتی عمل کی بحالی وغیر ہ شامل ہے ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ اگر نئی دہلی کو کشمیر کی موجودہ صورتحال کی صحیح تصویر پیش کی جائے ،اور مرکز کو یہ باور کرایا جائے کہ ماہِ رمضان المبارک ،سالانہ امرناتھ یاترا اور عید الفطر کے پیش نظر امن کی فوری ضرورت ہے ،تو مرکزی حکومت کشمیر میں یکطرفہ جنگ بندی کی متفقہ تجویز پر ضرور غور کرسکتی ہے ۔محبوبہ مفتی کا کہناتھا کہ سال2003میں اُس وقت کی مرکزی حکومت نے ایک اہم اقدام کے طور کشمیر میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس اقدام مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرا مودی کو اٹل بہاری واجپائی کے کشمیر سے متعلق اپنا ئے گئے اپروچ سے سیکھ لیکر بحالی امن واعتماد سے متعلق پیش کی جانے والی تجاویز پر غور کرنا چاہئے ۔وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کل جماعتی اجلاس میں شامل سبھی جماعتوں کے لیڈروں نے ایجنڈا آف الائنس کی پذیرائی کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس بصیرت آمیز دستاویز میں شامل باتوں پر اب تک عمل در آمد کیوں نہیں کیا گیا ۔محبوبہ مفتی کا کہناتھا کہ آج کے اجلاس میں بھی یہ بات سامنے آئے کہ پی ڈی پی ،بھاجپا قیادت کی جانب سے متفقہ طور پر مرتب کئے گئے ایجنڈا آف الائنس سیاسی لیڈر شپ کو بلا لحاظ سیاسی و نظریاتی وابستگی ایک بھروسہ ہے ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کل جماعتی اجلاس کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی چاہتی ہوں کشمیر میں خون خرابہ بند ہو اور یہاں امن قائم رہے ۔انہوں نے کہا کہ یکطرفہ جنگ بندی کے نتیجے میں ماہ رمضان المبارک ،سالانہ امرناتھ یاترا اور عید الفطر مواقعوں پر عوام کو راحت مل سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران سیاسی لیڈروں نے جنگجو مخالف کارروائیوں ،گرفتاریوں ،چھاپوں اور کریک ڈاؤن وتلاشی کا رروائیوں کو عوام کیلئے انتہائی تکلیف دہ بتایا ،اور میں بھی مانتی ہوں ایسے اقدامات سے کشمیر کے لوگ مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طویل کل جماعتی اجلاس میں شامل لیڈروں نے تجویز پیش کی کہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں مرکزی حکومت کو تفصیلی جانکاری فراہم کرنے کیلئے ایک کل جماعتی وفد نئی دہلی بھیجا جائے ۔خیال رہے کہ کشمیر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جھڑپوں ،پُرتشدد مظاہروں اور سنگبازی کے واقعات میں 8جنگجوؤں ،11مقامی شہریوں اور تامل ناڈو کے ایک22سالہ نوجوان سیاح کے ازجان ہونے کے نتیجے میں پیدا شدہ سنگین صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کی دوپہر سرینگر میں ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا ،جو ایس کے آئی سی سی میں دن کے2بجے شروع ہونے کے بعد لگ بھگ ساڑھے4گھنٹے جاری رہا اور اس اجلاس میں حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں پی ڈی پی ،بھاجپا کے علاوہ اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس ،پردیش کانگریس ،سی پی آئی ایم کی ریاستی شاخ ،پی ڈی ایف ، عوامی اتحاد پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لگ بھگ دو درجن سے زیادہ لیڈروں اور نمائندوں نے شرکت کی ۔

Comments are closed.