مستقبل کو سنوارنے کیلئے طلبہ اپنی پڑھائی پر خصوصی دھیان دیں /پروفیسر وینا پنڈتہ
امتحانی عمل میں شفافیت لانا اور تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینا بورڈ کی اولین ترجیح
اعجاز ڈار
سرینگر /09مئی / طلبہ کو پڑھائی پر دھیان دینے کی تلقین کرتے ہوئے جموں کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی چیر پرسن نے واضح کیا کہ امتحانی عمل میں شفافیت لانا بورڈ کی پہلی ترجیح ہوگی جبکہ اس معاملے میں کسی بھی کو تاہی کو برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ طالب علموں کے قیمتی تعلیمی سال کو بچانے کے لئے جموں و کشمیر بورڑ آف سکول ایجوکیشن نے تاریخ میں پہلی مرتبہ بارہویں جماعت کے Bi-annual امتحانات کے نتائج کا اعلان صرف 40دن کے قلیل وقفے کے بعد کیا۔ تعمیل ارشاد کے ساتھ خصوصی انٹرویو میںجموں کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی چیر پرسن پروفیسر وینا پنڈتہ نے کہا کہ کئی سالوں تک بورڈ سکرٹری کے عہدے پر تعینات رہنے کے بعد انہیں بورڈ چیرمین کا عہدے سونپ دیا گیاجس کو ایک اعزاز ہے تاہم انہوں نے کہا کہ عہدے پر تعینات ہونے کے بعد اب ذمہ داری بھی بڑ گئی ہے۔ پروفیسر وینا پنڈتہ نے کہا کہ لوگوں کو کافی امیدیں وابستہ ہیں اور میری کوشش رہیگی کہ لوگوں کے تمام امید وں پر کھرا اتروں اور کسی کو مایوس نہ کیا جائے ۔ بورڈ چیر پرسن نے کہا ہمارے پہلی کوشش یہی رہی گی بورڈ امتحانات میں شفافیت لائی جائے اور امتحانی نتائج کو غلطیوں کے بغیر منظر عام پر لایا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس بات کی خاص توجہ دی جائیگی کہ تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری اور بورڈ کے کام کاج کو صیح ڈھنگ سے عمل میں لایا جائے ۔ وینہ پنڈتہ نے مزید بتایا کہ آئن لائن سسٹم کو مزید فرو غ دینے کیلئے ان کی ترجیحات میں شامل ہو گی تاکہ گھر بیٹھ کر بچے آئن لائن فارم کو دیکھ سکیں او ر ان کو کسی بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔پنڈتہ نے مزید بتایا کہ تاریخی میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج ریکارڈ وقت میں منظر عام پر لایا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی کلینڈر پر خوش اسلوبی سے کام ہونے سے بورڈ ترقی کی راہ کی پر گامزن ہو رہا ہے ۔ بورڈ چیر پرسن نے طلبہ کو پڑھائی کی طرف دھیان دینے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل سنوارنے کیلئے بچوں کو دیگر سرگرمیوں سے زیادہ پڑھائی کی طرف دھیان دینا چاہئے تاکہ وہ کل بڑے افسر اور انجینئر بنا کر قوم کی خدمت میں پیش پیش رہے ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ اس طرح کا اقدام اُن طالب علموں کا قیمتی تعلیمی سال بچانے کے لئے کیا گیا جنہوں نے پچھلے تعلیمی سال کے دوران بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ چیرپرسن نے کہا کہ ااجنوری ۲۰۱۸ کو بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج ظاہر ہونے کے فوراً بعد Bi-annualامتحانات کے لئے فارم طلب کئے گئے اور اس سلسلے میں امتحان کا انعقاد مارچ مہینے کے اختتام تک مکمل کیا گیااور اس طرح سے طالب علموں کا کالجز اور دیگر اداروں میں داخلہ یقینی بنانے کے لئے صرف چالیس دن کے ریکارڑ وقفے کے اندر نتائج ظاہر کئے گئے۔ وینا پنڈتا نے کامیاب طالب علموں کو مبارک باد دی ہے۔
Comments are closed.