15مرتبہ نماز جنازوں کی ادائیگی کے بعد صدام پڈر اسلام و آزای کے حق میں نعرہ بازی کے بیچ آبائی علاقے میں سپرد خاک
بندشوں اور ہمہ گیر ہڑتال کے باوجود نماز جنازوں میں لوگوں کو سیلاب اُمڑ آیا ،جنگجوئوں کے ہمراہ ماں نے بھی سلامی دی
سرینگر /07مئی/سی این آئی 15 مرتبہ نماز جنازوں کی ادائیگی اور مکمل ہڑتال کے بیچ حزب کمانڈر صدام پڈر کو اسلام وآزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں اور مکمل ہڑتال کے بیچ اپنے آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیااور نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اسی دوران ایک مرتبہ پھر جاں بحق ساتھی کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے حزب سے وابستہ کئی جنگجوئوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران انہوں نے ہوائی فائرنگ کرکے ساتھی کو سلامی دی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس موقعہ پر حزب کمانڈر کی ماں نے بھی سلامی میں حصہ لیا ۔ سی این آئی کے مطابق شوپیان کے بڈی گام علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونین معرکہ آرائی کے دوران عسکری تنظیم حزب سے وابستہ 5مقامی جنگجو جاں بحق ہوگئے جن میں حزب کمانڈر صدام پڈر اور کشمیر یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رفعی بھی شامل تھے ۔معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی شام صدام پڈر کے جاں بحق ہونے کی خبر علاقے میں جو نہی پھیل گئی تو وہاں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ حزب کمانڈر صدام پڈر کی میت رات دیر گئے ان کے آبائی علاقہ ہف شرمال پہنچائی گئی۔اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ رات بھر جاری رہا۔حکام کو امن و قانون کی صورتحال میں خرابی پید اہونے کا احتمال ہے، اس لئے حساس علاقہ جات میں راتوں رات پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی عمل میں لا ئی گئی۔سوموار کی صبح آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد ہف شرمال پہنچ گئے جس دوران دنوں جاں بحق جنگجوئوں کے نماز جنازے ادا کئے گئے ،عین شاہدین کے مطابق لوگوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر قریب 15مرتبہ نما ز جنازہ ادا کیا گیا ،۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کے نماز جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد اس کو اپنے آبائی مقبرے میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوئوں کے یاد میں ضلع شوپیان میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہے ، ادھر نمائندے کے مطابق ہف شرمال میں بھی صبح سویرے نوجوانوں نے جاں بحق عسکریت پسندوں کے حق میں احتجاجی جلوس نکالا اور شاہراہ پر پہنچ گئے۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق جنگجوئوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے حزب سے وابستہ کئی جنگجوئوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران عسکریت پسندوں کو سلامی بھی دی گئی ۔اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ صدام پڈر کی ماں نے بھی سلامی میں حصہ لیا ۔ تاہم پولیس ذرائع نے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ۔
Comments are closed.