افغانستان : اغوا ہندوستانی انجیئروں کو رہا کرانے کے لئے سشما سوراج سے اپیل
نئی دلی: افغانستان کے بغلان صوبہ میں اتوار کے روز نامعلوم بندوق برداروں نے ایک بجلی کمپنی میں کام کرنے والے چھ ہندوستانیوں سمیت سات افراد کو اغوا کر لیا ۔ افغان میڈیا کے مطابق ، طالیبان دہشت گردوں نے ان لوگوںکو سرکاری ملازم سمجھ کر اغوا کر لیا لیا ہے ۔ دریں اثنا نئی دہلی میں وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ لوگ افغان اہلکاروں کے رابطہ میں ہیں اور معاملہ کا جائزہ لے رہے ہیں ۔
وزارت داخلہ کے ترجمان رویش کمار نے بتایا کہ ’’ ہمیں ہندوستانی شہریوں کے افغانستان کے شمالی صوبہ بغلان سے اغوا ہونے کی خبر ملی ہے ۔ ہم افغانستان اہکاروں کے رابطہ میں ہیں۔
افغانستان : اغوا ہندوستانی انجیئروں کو رہا کرانے کے لئے سشما سوراج سے اپیل
افغانستان کے ایک نیوز چینل ’ٹولو نیوز ‘ نے مقامی اہلکاروں کے حوالہ سے بتایا کہ اسلحہ لئے نامعلوم بندوق بردار وں نے سات کامگیروں کو اغوا کر لیا تھا ۔ ان میں چھ ہندوستانی اور ایک افغان شامل ہے ۔ یہ تمام کامگیر بغلان صوبہ کی دارالحکومت پول اے خومرے کے پاس واقع گاوں باغ اےشمال میں الکٹر ک سب اسٹیشن کے دورہ پر گئے تھے ، تبھی بندوک برداروں نے ان پر حملہ کر دیا ۔
وہیں دوسری جانب ، بغلان کے گورنراعبدالحئی نعمتی نے بتا یا کہ طالبان نے کامگیروں کو اغوا کیا ہے اور انہیں پول اے خومرےشہر کے دانڈ شاہبدین علاقہ میں لے گئے ۔
نعمتی نے بتایا کہ افغان اہلکاروں نے طالبان سے بات کی اور دہشت گرد تنظیم نے کہا کہ اس نے ہندوستانیوں کو سرکاری ملازم سمجھ کر کو اغوا کر لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ اغوالوگوں کو قبائلی سرداروں اور ثالثی کے ذریعہ رہا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رائٹر س کے مطا بق ، افغانستان میں فروتی کے لئے لوگوں کو اغوا کیا جانا ایک عام بات ہو گئی ہے ۔بڑھتی غریبی اور بیروزگاری نے حالات کشیدہ کر دئے ہیں ۔ علاوہ ازیں ابھی تک کسی بھی تنظیم نے اغوا کرنے کی زمہ داری نہیں لی ہے اور نہ ہی ان کی رہائی کے لئے پیسو ں کا مطالبہ کیا ہے ۔
Comments are closed.