سیول سیکریر یٹ گھیرائو پروگرام پر پولیس کی قدغن ، شہر خاص میں بندشوں عائد ، میر واعظ گھر کے باہر گرفتار
مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی میںدوسرے روز بھی مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی کا پہہ مکمل جام
سرینگر /07مئی/ سرینگر اور شوپیان میں جنگجوئوں اورعام شہری ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی ریاست گیر ہڑتال کے نتیجے میں سوموار کو دوسرے روز بھی وادی کشمیر میں مکمل ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ اسی دوران سیول سکریٹریٹ گھیرائو کے پیش نظر شہر خاص کے کئی علاقوں میں بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا ۔ اسی دوران حریت ع چیرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے خانہ نظر بندی توڑ کر سیول سیکریٹریٹ کی طرف جانے کی کوشش کی ۔ ادھر وادی کشمیر میں مکمل ہڑتال کے بیچ جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہر ے ہوئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے طاقت کا استعمال کیا ۔ ادھر سیکورٹی وجوہات کی بنا پروادی میں دوسرے روز بھی ریل سروس بھی احتیاطی طور معطل رکھی گئی جبکہ انٹرنیٹ خدمات پر بھی پابندی بدستور جاری ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر اور شوپیان میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے جنگجوئوں اور عام شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی کشمیر میں دوسرے روز بھی پائین شہر کے کئی علاقوں میںسخت ترین بندشیں کے بیچ وادی میں مکمل اور ہمیہ گیر ہڑتال رہی ۔اسی دوران مشترکہ قیادت کی طرف سے سیول سیکریٹریٹ گھیر ائو کے پیش نظر شہر کے 7پولیس تھانوں نوہٹہ، مہاراج گنج،رعناواری ،صفاکدل اور کرالہ کھڈ اور ماسئمہ اور خانیارمیں سوموارکی صبح سے ہی سخت ترین بندشوں کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے باضابطہ احکامات صادر کئے گئے تھے جس کے تحت کئی علاقوں کو مکمل طور سیل کرکے تمام سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔لوگوں نے بتایا کہ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ سخت ناکہ بندی کرکے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔مائسمہ ، گائوکدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک اور ملحقہ سڑکوں پر بھی پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور کئی سڑکوں کو دن بھر لوگوں کی آمدورفت کیلئے بند رکھا گیا۔ تاہم شہر کے سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی مگر لوگوں کی نقل و حمل پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ شہر کے کم وبیش تمام علاقوں میںغیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔ اس دوران سوموار کو مسلسل دوسرے روز ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی۔اْدھر ہڑتال اوربندشوں کے باوجود بھی جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں بندشوں کی پرواہ کئے بغیر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ ادھر وادی کے دوسرے علاقوں میں بھی حکم امتناعی کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا تاہم اس کے باوجود سوپور ، پلوامہ ،شوپیان اننت ناگ ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ اور دیگر کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ادھر اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور سڑکیں بھی دن بھر سنسان نظر آئیںجس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ادھرممکنہ احتجاج کے پیش نظر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور دیگر کئی مزاحمتی تنظیموں کے لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ کچھ ایک کو باضابطہ طور گرفتار بھی کیا گیا۔جبکہ حریت ع چیرمین میر واعظ مولوی فاروق کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہوں نے خانہ نظر بندی توڑ کر سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی ۔ اسی دوران وادی کشمیر میں سوموار کو تمام تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کی سرگرمیاں رہی جبکہ یونیورسٹیوں کی طرف سے لیجانے والے امتحانات بھی ملتوی کر دئے گئے تھے ۔دریں اثناء ہڑتالی کال کے پیش نظر سوموار کو مسلسل دوسرے دن بھی بارہمولہ اور بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس معطل رکھی گئی۔ریلویز کے ایک آفیسر نے بتایا کہ یہ اقدام سیکورٹی وجوہات کی بناء پر احتیاط کے بطور اٹھایا گیا کیونکہ ماضی میں اس طرح کے حالات میں ریلوے املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
Comments are closed.