سخت حفاظتی انتظامات کے تحت 6ماہ کے عرصے کے بعد سیول سیکریٹریٹ کے دفترسرینگرمیں کھل گئے

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سیول سیکریٹریٹ میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کیااور مارچ پاس پر سلامی لی

سرینگر /07مئی/ 6ماہ کے طویل عرصے کے بعد کڑے سیکورٹی انتظامات اور وادی میں مکمل ہڑتال کے بیچکے بیچ آج سیول سیکریٹریٹ کے دفتر سرینگر میں کھل گئے ۔ دربار مو کے کھلنے کے پیش نظر پوری وادی میں حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ دریں اثنا شہر سرینگر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے پولیس وفورسز کے اضافی دستے تعینات کئے گئے ہیں جبکہ سیول سیکریٹریٹ کے اردگرد کسی کو بھی رکنے کی اجازت نہیں دی جار ہی تھی۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں اتوار کو پیش آئی پانچ شہری ہلاکتوں کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اُن کا آج آفس آنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا ’ہمارا آج آفس آنا بہت تکلیف دہ ہے۔ کل ہی ایک سانحہ پیش آیا جس میں پانچ شہریوں کی موت واقع ہوئی۔ سی این آئینمائندے کے مطابق 6ماہ کے عرصے کے بعد سرینگر میں سیول سیکریٹریٹ کے دفاتر آج کھل گئے اور اس ضمن میں کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کوروکنے کیلئے انتظامیہ نے حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے ۔سرکاری دفتروں ،پولیس اسٹیشنوں ،پلوں ،اہم سیاسی شخصیتوں کی حفاظت کے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں شہر سرینگر میں خفیہ کیمروں کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ دربار موکے کھلنے کے موقعے پر عسکریت پسندوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کو روکنے کیلئے بھی حفاظت کے سخت انتظامات عمل میں لائے گئے تھے ۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت شہر سرینگر کے اطراف و اکناف میں تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کو رونما ہونے سے پہلے ہی ٹالا جا سکے۔ نمائندے کے مطابق وادی کے اطراف و اکناف میں دربار مو کے دفتر کھلنے کے موقعے پر انتظامیہ نے حفاظت کے اقدامات اٹھائے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی جانب سے سیول سیکریٹریٹ کا گھیرائو کرنے کی دھمکی کے پیش نظر حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے بھی موثر اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ سرینگر کی ضلع انتظامیہ پوری طرح سے متحرک ہو گئی ہے اور کسی بھی گڑھ بڑھ کو روکنے کیلئے حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی صبح 9بجے کے قریب سیول سیکریٹریٹ میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کیااور مارچ پاس پر سلامی لینے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ریاست کے تازہ ترین حالات اور حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالی اور اس دوران سرکار کی جانب سے لوگوں کی فلاح و بہبود کے بارے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی ۔ اسی دوران انہوں نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں اتوار کو پیش آئی پانچ شہری ہلاکتوں کو سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کا آج آفس آنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا ’ہمارا آج آفس آنا بہت تکلیف دہ ہے۔ کل ہی ایک سانحہ پیش آیا جس میں پانچ شہریوں کی موت واقع ہوئی۔ میری جموں وکشمیر ، ملک کی عوام اور ملک کی حکومت سے گذارش ہے کہ بیچ کا کوئی راستہ ڈھونڈ لیجئے تاکہ خون خرابے کا سلسلہ بند ہو۔ پتھر ہے تو غریب کے بچے کے ہاتھ میں ہے۔ بندوق ہے تو غریب کے بچے کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی نہ کوئی راستہ نکال کے اس خون خرابے کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق سیول سیکریٹریٹ کے کھلنے کے موقعے پر سیول لائنز اور شہر خاص میں بھی پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت تعینات کر دی گئی تھی ۔ ذرائع کے مطابق سرینگر ضلع انتظامیہ نے سیول سیکریٹریٹ کے کھلنے کے سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور انتظامات کو آخری شکل دیدی ہے مختلف سرکاری محکموں کے آفیسران نے ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹیوں پر حاضرہو جائیں اور سیول سیکریٹریٹ کے کھلنے کے موقعے پر خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا کام کاج شروع کریں ۔ ادھر سرکار ی ملازمین کی جانب سے اپنے مطالبات کو منوانے کے ضمن میںسیول سیکریٹریٹ کا گھیرائو کرنے کی جو دھمکی دی گئی تھی اسے ٹالنے کیلئے بھی انتظامیہ نے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ سیول لائنز علاقے میں جگہ جگہ پولیس وفورسز کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ سادہ کپڑوںمیں سی آئی ڈی اہلکاروں کی تعیناتی کا بھی فیصلہ لیا گیا تھا تاکہ ناخوشگوار واقعات کو رونما ہونے سے پہلے ہی ٹالا جا سکے۔

Comments are closed.