مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث پوری وادی میں ہو کا عالم

شہر خاص میں غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ ، جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر جھڑپیں

سرینگر؍یکم؍مئی؍ ؍ شہری اور جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ مائسمہ اورپائین شہر کے بعض علاقوں میں ناکہ بندی سے کرفیو جیسی صورتحال رہی۔اس دوران پلوامہ اور کولگام سمیت کئی مقامات پر پتھراو کے واقعات پیش آئے جبکہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سرینگر اور بانہال کے درمیان ریل خدمات معطل رہیں۔جے کے این ایس کے مطابق دربگام پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں شہری اور جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کشمیر بندھ کی کال دی تھی ۔ سرینگر سمیت وادی کے تمام قصبہ جات میں ہمہ گیر ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے اور کئی مقامات پر احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل نوجوانوں اور فورسز کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔شہرسرینگر اور اس کے گردونواح میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہنے سے بازار سنسان پڑے رہے جبکہ سڑکوں پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ہڑتال کے دوران امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرمائسمہ اور پائین شہر کے بعض علاقوں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد رہیں۔ صفاکدل، خانیار، نوہٹہ اورمہاراج گنج پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ144سختی کے ساتھ نافذ رہا۔ لوگوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں سخت کرفیو کے تحت لوگوں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد رہیں۔اہم سڑکوں ،پلوں اور چوراہوں پر بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ناکے بٹھاکر متعدد سڑکوں کو خار دار تار کے ذریعے مکمل طور سیل رکھا گیاجبکہ نوہٹہ ،گوجوارہ ،راجوری کدل اور دیگر کئی علاقوں میں اندرونی گلی کوچوں میں بھی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔لوگوں کے مطابق کرفیو زدہ بستیوں میں چپے چپے پر پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور انہوں نے شہریوں کو گھروں سے بھی باہر نکلنے نہیں دیا۔شہر کے کئی حساس علاقوں میں پولیس کے اضافی اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ضلع صدر مقام اور تمام تحصیل صدر مقامات پر ہمہ گیر ہڑتال رہی۔بیروہ ،بڈگام ،ماگام ،کھاگ ،خانصاحب ،چاڈورہ اور چرار شریف کے ساتھ ساتھ پکھر پورہ میں بھی ہمہ گیر ہڑتال کے نتیجہ میں ہو کا عالم رہا اور جہاں ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا وہیں دکانیں اور کاروباری ادارے بھی بند رہے تاہم ضلع میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔کولگام سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع بھر میں مکمل ہڑتال کے دوران قصبے کی تمام دکانیں مکمل طور پر بند رہیں جبکہ ٹریفک بھی سڑکوں سے غائب رہا۔دمہال ہانجی پوری ،قاضی گنڈ ،دیوسر ،یاری پورہ ،پہلو اور دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے۔اننت ناگ سے نمائندے نے اطلای دی ہے کہ ضلع بھر میں ہمہ گیر ہڑتال رہی ۔ بجبہارہ ، سنگم ، مٹن ، عشمقام ، اچھہ بل ، آرونی ، کوکرناگ ، ویری ناگ اور ڈورو میں دکانیں اورکارو باری ادارے بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمد و رفت معطل رہی۔ سوپور سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ قصبہ میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اورٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا۔بانڈی پورہ ، بارہمولہ ،پٹن ،پلہالن اور شمالی کشمیر کے دیگر علاقوں میں ہڑتال کے دوران دکانیں اور کارو باری ادارے بند رہے اور ٹریفک معطل رہا۔وسطی ضلع گاندربل میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ شہری ہلاکتوں پر پوری وادی میں غم وغصے کی لہر پائی جارہی ہے اور صورتحال انتہائی دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے۔پلوامہ اور شوپیاں میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور گاڑیوں کی نقل و حرکت ٹھپ ہوکر رہ گئی۔مجموعی طور پروادی بھر میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور سڑکیں سنسان نظر آئیں جس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔س دوران بانہال اور رام بن میں ہڑتال کے دوران تمام دکانات اور دیگر کاروباری مراکز بند رہے تاہم سڑکوں پر ٹریفک کی آواجاہی معمول کے مطابق رہی۔اس دوران قصبہ میں کسی بھی صورتحال کا فوری مقابلہ کرنے کیلئے حساس مقامات پر پولیس اور فورسز کے دستے تعینات رکھے گئے تھے تاہم قصبہ میں ہڑتال کے دوران کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

Comments are closed.