جدہ میں کشمیر مسئلے کے سلسے میں او آئی سی کا ہنگامی اجلاس منعقد ۔آصفہ کا معاملہ چھایا رہا

پاکستانی رکن نے تنازعہ کشمیر کو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے خطرہ قرار دیا

سرینگر؍یکم؍مئی؍ ؍ جموں و کشمیر کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس پیرکو جدہ میں منعقد ہوا۔ جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق جدہ میں منعقدہ او آئی سی کے اجلاس میں پاکستان نے مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اس مسئلے کے دائمی حل کیلئے مسلم ممالک کے سربراہان سے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ خارجہ سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی جس کی صدارت او آئی سی کے خصوصی نمائندہ برائے جموں و کشمیر سفیر عبداالعالم نے کی۔ آذربائیجان، ترکی، سعودی عرب اور نائیجر سے وفود نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سفیر عبدالعالم نے اپنے ابتدائی کلمات میں بیگناہ کشمیریوں کی حالیہ شہادتوں کی پرزور مذمت کی اور جموں و کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت سمیت جائز حقوق کے حصول کی جدوجہد کی حمایت کے بارے میں او آئی سی کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعہ کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔تہمینہ جنجوعہ نے شرکاء کو بھارتی جارحیت اور بیگناہ کشمیریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حالیہ مظالم، 8سالہ بچی اصصفہ بانو کی آبروریزی کے گھناؤنے واقعہ اور قتل اور وادی میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے تسلط اور جبر کی ایسی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔خارجہ سیکریٹری نے تنازعہ کشمیر کی مسلسل حمایت پر او ا?ئی سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تصفیہ طلب تنازعہ کشمیر جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بات چیت کے ذریعے 70سالہ دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔کشمیری عوام کے حقیقی نمائندہ غلام محمد صفی نے رابطہ گروپ کو کشمیر میں بھارت کی آبروریزی، لوٹ مار، تشدد اور قتل و غارت کی پالیسی کے بارے میں آگاہ کیا۔

Comments are closed.