14 مئی تک ایس ایس اے اُساتذہ کی تنخواہ کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ مُنسلک نہ کیا گیا تو 15 مئی کو ٹیچرس فورم کا احتجاج ہوگا
ٹیچرس فورم کی طرف سے سرکار کو لیگل نوٹس اجرا۔ وزیر اعلی اور وزیر خزارنہ و تعلیم سے ذاتی مُداخلت کا مطالبہ /عبدل قیوم وانی
سرینگر /29اپریل /جموں و کشمیر ٹیچرس فورم کے مجلس عاملہ کا ایک غیر معمولی اجلاس زیر صدارت ایجیک صدر و چیرمین ٹیچرس فورم عبدل قیوم وانی کے مرکزی دفتر ڈائیٹ بمنہ میں منعقد ہوا جسمیں تمام مرکزی ۔ صوبائی ۔ ضلعی قایئدین ۔ زونل صدور و ڈیلگیٹ حضرات نے شرکت کی۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق اجلاس میں تمام مقررین نے SSA کے تحت رہبر تعلیم اور ہیڈ ٹیچرس کی تنخواہوں کی عدم دستیابی سے پیدا شدہ سنگین صورت حال پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس بات پر سنگین نار ا ضگی کا اظہار کیا گیا۔ کہ ریاستی سرکار SSA کے تحت کام کررہے اساتذہ کی تنخواہوں کو مسلسل ماہانہ طریقے پر ادا کرنے میں نا کام ہو رہی ہے۔ اور اسکا خمیازہ رہبر تعلیم اور ہیڈ ٹیچرس کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ تنخواہوں کی عدم ادائگی نے SSA اساتذہ کی سماجی زندگی کو اسطرح اجیرن بنا کے رکھ دیا ہے۔ کہ اب اساتذہ گھروں کے باہر آنے سے کتراتے ہیں۔ قرض داری ۔ بیماری ۔ تنگ دستی اورلا چاری کے اسباب سے اساتذہ ذہنی پریشانیوں کے اس قدر شکار ہوئے ہیں کہ اب اساتذہ مزدوری کر کے اپنے اہل و عیال پال رہے ہیں۔ عبدل قیوم وانی نے اجلاس سے خطاب کے دوران SSA اساتذہ کے درد اور تکلیف کو پوری اسا تذہ برادری بلخصوس ٹیچرس فورم کیلئے دردِ جگر قرار دیا کہ اب حالات برداشت کے باہر ہو رہے ہیں اور ٹیچرس فورم ایسے حالات میں اپنے اسا تذہ کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتی بلکہ اُن کے جائز حقوق اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے احتجا جی راستہ اختیار کرنے سے دریغ نہیں کر سکتی ۔ عبدل قیوم وانی نے کہا کہ اگر ریاستی سرکار نے 14 مئی تک SSA اساتذہ کی تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ مُنسلک نہ کیا تو ٹیچرس فورم کی طرف سے 15 مئی کو شیر کشمیر پارک سے سول سیکٹریٹ کی طرف پُرامن مارچ کیا جائے گا۔ اور سیکٹریٹ پہنچ کر وزیر علی ۔ وزیر خزانہ و تعلیم اور چیف سیکرٹری کو یاداشت پیش کریں گے ۔عبد ل قیوم وانی نے کہا کہ SSA اساتذہ کے سنگین معاملے کو لے کر ٹیچرس فورم کے وفود نے وزیر اعلی کو پہلے ہی یاداشت پیش کی ہے۔ وزیر تعلیم و وزیر خزانہ ۔ چیف سیکر یٹری ۔ سیکریٹری ایجوکیشن۔ ناظم تعلیمات اور دیگر اعلی احکام سے ملاقات کر کے SSA اساتذہ کی تنخواہوں کو ادا کرنے کیلئے ہمیں یقین دلایا گیا کہ SSA تنخواہوں کو Delink کرکے سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ مُنسلک کیاسرینگر /29اپریل /سی این آئی جموں و کشمیر ٹیچرس فورم کے مجلس عاملہ کا ایک غیر معمولی اجلاس زیر صدارت ایجیک صدر و چیرمین ٹیچرس فورم عبدل قیوم وانی کے مرکزی دفتر ڈائیٹ بمنہ میں منعقد ہوا جسمیں تمام مرکزی ۔ صوبائی ۔ ضلعی قایئدین ۔ زونل صدور و ڈیلگیٹ حضرات نے شرکت کی۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق اجلاس میں تمام مقررین نے SSA کے تحت رہبر تعلیم اور ہیڈ ٹیچرس کی تنخواہوں کی عدم دستیابی سے پیدا شدہ سنگین صورت حال پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس بات پر سنگین نار ا ضگی کا اظہار کیا گیا۔ کہ ریاستی سرکار SSA کے تحت کام کررہے اساتذہ کی تنخواہوں کو مسلسل ماہانہ طریقے پر ادا کرنے میں نا کام ہو رہی ہے۔ اور اسکا خمیازہ رہبر تعلیم اور ہیڈ ٹیچرس کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ تنخواہوں کی عدم ادائگی نے SSA اساتذہ کی سماجی زندگی کو اسطرح اجیرن بنا کے رکھ دیا ہے۔ کہ اب اساتذہ گھروں کے باہر آنے سے کتراتے ہیں۔ قرض داری ۔ بیماری ۔ تنگ دستی اورلا چاری کے اسباب سے اساتذہ ذہنی پریشانیوں کے اس قدر شکار ہوئے ہیں کہ اب اساتذہ مزدوری کر کے اپنے اہل و عیال پال رہے ہیں۔ عبدل قیوم وانی نے اجلاس سے خطاب کے دوران SSA اساتذہ کے درد اور تکلیف کو پوری اسا تذہ برادری بلخصوس ٹیچرس فورم کیلئے دردِ جگر قرار دیا کہ اب حالات برداشت کے باہر ہو رہے ہیں اور ٹیچرس فورم ایسے حالات میں اپنے اسا تذہ کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑ سکتی بلکہ اُن کے جائز حقوق اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے احتجا جی راستہ اختیار کرنے سے دریغ نہیں کر سکتی ۔ عبدل قیوم وانی نے کہا کہ اگر ریاستی سرکار نے 14 مئی تک SSA اساتذہ کی تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ مُنسلک نہ کیا تو ٹیچرس فورم کی طرف سے 15 مئی کو شیر کشمیر پارک سے سول سیکٹریٹ کی طرف پُرامن مارچ کیا جائے گا۔ اور سیکٹریٹ پہنچ کر وزیر علی ۔ وزیر خزانہ و تعلیم اور چیف سیکرٹری کو یاداشت پیش کریں گے ۔عبد ل قیوم وانی نے کہا کہ SSA اساتذہ کے سنگین معاملے کو لے کر ٹیچرس فورم کے وفود نے وزیر اعلی کو پہلے ہی یاداشت پیش کی ہے۔ وزیر تعلیم و وزیر خزانہ ۔ چیف سیکر یٹری ۔ سیکریٹری ایجوکیشن۔ ناظم تعلیمات اور دیگر اعلی احکام سے ملاقات کر کے SSA اساتذہ کی تنخواہوں کو ادا کرنے کیلئے ہمیں یقین دلایا گیا کہ SSA تنخواہوں کو Delink کرکے سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ مُنسلک کیا جائے گا۔ اور اساتذہ کی پریشانیوں کو ہمیشہ کیلئے دور کیا جائے گا ۔ لیکن آج تک نہ تو SSA کی تنخواہوں کو ادا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ مُنسلک کیا جا رہا ہے۔ جس سے اساتذہ کی پریشانیوں اور تکالیف میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جار ہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اساتذہ سڑکوں پر آنا نہیں جاہتے ہے بلکہ سکولوں میں رہ کر اپنے طلبا اور طالبات کے لئے روشن مُستقبل کیلے کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اپنے جائز حقوق کی بازیابی کیلئے کسی بھی صورت میں خاموش نہیں رہ سکتے ۔ اُنہوں نے SSA اساتذہ سے کہا کہ وہ متحد رہیں اور ٹیچرس فورم کی طرف سے دئے گئے نتیجہ خیز پروگرام کو کامیاب کرنے کے لئے آج سے ہی محنت کریں اور کسی بھی طرح کی غلط فہمی کے شکار نہ ہو جائیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیچرس فورم 14 مئی سے پہلے اس ضمن میں ریاستی وزیر اعلی اور وزیر خزانہ و تعلیم کو اپنی تشویش سے آگاہ کریں گے اور معاملات کو ٹکراو کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کرنے کی بھی کوشش کریں گے لیکن معاملہ اگر افہام و تفہیم سے حل نہیں ہوا تو ٹیچرس فورم 15 مئی کو زوردار احتجاج کریگی اور اس احتجاجی پروگرام کے حوالے سر کار کو قانونی نوٹس بھی جاری کی جائے گی۔ عبدل قیوم وانی نے اساتذہ برادری سے تلقین کی کہ وہ آپسی اختلافات کو بھول کر SSA اساتذہ کی پریشانیوں اور مُشکلات کو حل کرنے کیلئے ٹیچرس فورم کے پروگرام کو کامیاب کرنے کیلئے اتحاد و اتفاق قائم کریں۔ اُنہوں نے تمام ریاستی ۔ صوبائی ۔ ضلعی و زونل عہدداراں کو ہدایت دی کہ وہ آج سے ہی اس تواریخی پروگرام کو کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے اساتذہ کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے۔ عبدل قیوم وانی نے اُمید ظاہر کی کہ وزیر اعلی متحرمہ محبوبہ مفتی صاحبہ وزیر خزانہ و تعلیم سید الطاف احمد بُخاری صاحب SSA اساتذہ کی پریشانیوں اور معاملے کی حساسیت کو دیکھ کر اس اہم اور حساس معاملے کا فوری حل نکالیں گے اور انکی تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ مُنسلک کر کے اس انسانی مسلے کو ہمیشہ کے لئے حل کریں گے ۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کلرکل ایسو سیشن کی طرف سے Pay anomaly (تنخواہوں میں تفاوت) کی معاملے کو حل کرنے کے لئے احتجا ج کو برحق قرار دیتے ہوے واضح کیا کہ ٹیچرس فورم کلرکل کیڈر کی Pay anomaly کے دیرینہ مسلے کے حل کے لئے کلرکل ایسوسیشن کو ہر سطح پر مکمل تعاون فراہم کرتی رہی ہے اور آگے بھی مکمل تعاون پیش کرے گی۔ اُنہوں نے سرکار سے مطالبہ دہرایا کہ کلرکل Pay anomaly ماسٹرس کی pay anomaly (6500-10500) گریڈ اور دیگر محکموں میں رُکی پڑی Pay anomaly کو دور کریں کیونکہ ریاستی سرکار نے اصولی طور پر صرف Pay anomaly کے مسلے کو تسلیم کر لیا ہے۔ بلکہ Pay anomaly کو دور کرنے کے لئے تشکیل شُدہ کمیٹیوں نے وقتافوقتا اپنی رپوٹ پیش کر کے تمام ضروری لوازمات پورے کئے ہیں۔ اور اس سلسلے میں سرکار اور ایجیک کے درمیان ایگریمنٹ بھی طے ہو اہے لیکن آج تک Pay anomaly کے مسلے کو حل نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے کلرکل کیڈر کے ملازمین احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ عبدل قیوم وانی کے کہا کہ Officers KAS اور Engineers کو ٹایم باونڈ اسکیل کے زُمرے میں لایا گیا لیکن لیکچرارس اور اسکے یکسان گریڈ اور گزٹیڈ کیڈر والے ملازمین کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔ اُنہوں نے سرکار سے مطالبہ دُہرایا کہ +2 لیکچرس کے حق میں رننگ گریڈ وا گُذار کیا جائے ۔ اجلاس میں ریاستی سرکار سے مُطالبہ کیا گیا کہ کنٹنجنٹ پیڑ ملازمین کو بھی SRO 520 میں شامل کیا جائے اور اُن کی مستقلی کے لئے احکامات صادر کئے جائیں۔ اجلاس میں جن قائدین نے شرکت کی ان میں غلام رسول بٹ ۔ محمد اکبر خان ۔ محمد اسحاق گنائی ۔ ہرپال سنگھ پالی۔ پیر نثار احمد ۔ محمد افضل بٹ۔ محمد اشرف وانی۔ محمد اکبر ڈار ۔ غلام حسن زرگر ۔ شوکت علی بیگ۔ شوکت احمد شاستر۔ بشیر احمد ٹھوکر ۔ بشیر احمد میر۔ ضلعی صدور جن میں محمد امین خان۔ فاروق احمد صوفی۔ محمد شفع راتھر ۔ محمد امین ملک۔ فاروق احمد لسجنی۔ نظیر احمد ۔ محمد اشرف وانی تھے۔
Comments are closed.