کشمیر اکنامک الائنس کی طرف سے شہر بچاو کانعرہ بلند

کہا شہر سے سیکر یٹریٹ دفتروں کو منتقل کرنے کا مجوزہ منصوبہ براہ راست شہری کاروبار پر حملہ

سرینگر /29اپریل / کشمیر اکنامک الاینس نے شہر بچاو کانعرہ بلند کرتے ہوئے شہر سے سیول سیکری یٹریٹ سمیت دیگر درجنوں دفتروں کو منتقل کرنے کا مجوزہ منصوبہ براہ راست شہری کاروبار اور ثقافت پر حملہ ہے۔انہوں نے ارباب حل و عقد،دانشوروں،سیول سوسائٹی اور وکلاء کے علاوہ تاجروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی سنجیدگی کا احساس کرتے ہوئے انتظامیہ پر دبائو ڈالے۔سی این آئی کے مطابق سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لالچوک کی مرکزی حیثیت پر ڈھاکہ ڈالنے اور اس کی تجارتی افادیت کو مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ارباب اقتدار اپنی روش ترک کر کے لالچوک کی اصل ہیت بحال کرنے میں ناکام ہوئے تو تاجر برداری سڑکوں پر آکر احتجاجی لہر چھیڑدیں گی۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمدڈار نے کہا کہ جہاں متواتر ریاستی حکومتوں نے شہر کو نظر انداز کر کے اس کی تجارتی اور ثقافتی اعتباریت کو دائو پر لگایا وہی تعمیر و ترقی کے نام پر بھی شہر کے ساتھ مذاق ہی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ شہر خاص طور پر تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے مالا مال ہے تاہم حکمرانان وقت نے منصوبہ بند سازش کے تحت کھبی شہر کو ہی منتقل کرنے کی سازش کی اور کھبی اس کی شان رفتہ بحال کرنے کیلئے اپنے ہی گھروں کو آباد کیا۔فاروق احمدڈر کا کہنا تھا کہ2014کا تباہ کن سیلاب اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے دوران جان بوجھ کر شہر کو غرقاب کیا گیا اور معاشیاتی و اقتصادی لحاض سے شہر ی عوم،تاجروں اور دیگر لوگوں کی کمر توڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حیرانگی کا مقام یہ ہے کہ ایک ایک کر کے لالچوک سے دفاتر اور دیگر اداروں کو منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی ایک ساز ش کے تحت محکمہ تعمیرات عامہ کا دفتر واقع شیخ باغ،کے ایم ڈی اڈہ، لالہ رخ اڈہ لالچوک ،بٹہ مالو بس اسٹینڈ اور صدر کورٹ کو منتقل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب ماسٹر پلان میں شہر سے سیول سیکری ٹریٹ کے علاوہ درجن بھر انتظامی دفتراں جو شہر کے باہر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اداروں کو مرکزی لالچوک سے منتقل کرنے سے نہ صرف لالچوک کی تاریخی حیثیت کو دائو پر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ اس کی ہیت کو بھی تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اداروں کو منتقل کرنے سے براہ راست لالچوک کی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونے جس کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ روزگار سے بھی ہاتھ دو بیٹھے گا۔ فاروق احمد ڈار نے سیول سوسائٹی،تاجروں،صنعت کارون،ہوٹل مالکان،ٹرانسپوٹروں،دکانداروں،تعمیراتی معماروں اور دیگر لوگوں سے اس معاملے میں مشترکہ حکمت عملی اور متفق فیصلہ سازی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لالچوک کو بچانے میں تاخیر کی گئی تو یہ مرکزی تجارتی شہر قصہ پارینہ بن جائے گا۔ انہوں نے ارباب حل و عقد،صحافیوں،وکلاء اور شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لئے اور لالچوک کو بچانے کیلئے آگے آئیں۔

Comments are closed.