جدوجہدکی کامیابی کیلئے ہوشمندی اورجامع حکمت عملی درکار/پروفیسرغنی

حقیقی عمل سے زیادہ ردعمل کی پالیسی نقصان دہ

سرینگر /27اپریل / سینئرمزاحمتی لیڈرپروفیسرعبدالغنی بٹ نے رواں جدوجہدکی کامیابی کیلئے ہوشمندی ،وسعت قلبی اورجامع حکمت عملی پرزوردیتے ہوئے کہاہے کہ مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے انتظارمیں گزشتہ70برسوں کے دوران مظلوم کشمیری قوم کی لاتعدادبہاریں خزاں کی نذرہوچکی ہیں ۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ٹھنڈی پورہ کپوارہ میں نمازجمعہ سے قبل مقامی جامع مسجدمیں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے چیئرمین پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ مسئلہ کشمیرکاحل ڈھونڈتے کشمیریوں کی نہ جانے کتنی بہاریں لٹ گئیں ،اوربدقسمتی سے اب بھی یہی صورتحال پائی جاتی ہے کیونکہ ہم نے بحیثیت ایک قوم آج تک بھارت کی جارحانہ اورسخت پالیسیوں وچالبازیوں کامقابلہ یاتوڑکرنے کیلئے کوئی جامع اوردُورس حکمت عملی نہیں اپنائی ۔انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہدکی سب سے بڑی خامی یہ رہی ہے کہ ہم نے عمل سے زیادہ ردعمل پربھروسہ کیا۔پروفیسرغنی کاکہناتھاکہ جب تک ہم ایک غیوراورباشعورقوم کے بطوراپنی رواں جدوجہدکیلئے جامع حکمت عملی ،واضح پالیسی ،دوٹوک موقف اورقومی مفادپرمبنی طریقہ کاروضع نہیں کریں گے تب تک ہماری مظلوم اورمحکموم قوم کوطرح طرح کی سختیوں ،مصائب اورتکالیف کاسامناکرناپڑے گا۔انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی لیڈرہی قوم کاراہ نماہوتاہے ،اسلئے ایک سیاستدان کوہرمعاملے اورہرزاویے پرنظررکھناپڑتی ہے۔پروفیسرعبدالغنی بٹ نے کہاکہ ایک انسان کی انفرادی اوراجتماعی خواہشات وجذبات ہواکرتے ہیں ،اوراسی طرح سے لیڈروں کے اپنے جذبات بھی ہوتے ہیں لیکن ایک لیڈرکوایک عام انسان کے برعکس اپنے جذبات وخواہشات کادائرہ محدودکرناپڑتاہے ۔پروفیسرغنی نے کہاکہ اگرکسی قوم کاپاسبان اورراہ نمااپنی عقل وجذبات کوجہت نہ دے پائے تواُس قوم کی بہاریں خزاں کی نذرہوتی رہتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آزادی سوچ میں پختگی ،رویوں میں وسعت اورعمل میں اعتدال سے عبارت جدوجہدکانام ہے۔اور کسی بھی قوم کی جدوجہدمیں جہت ،تعلیم اورتربیت ہونامنزل تک پہنچنے کاحوصلہ فراہم کرتی ہے۔

Comments are closed.