شہر خاص میں نماز جمعہ کے بعدمظاہرے اور پتھراو
لالچوک اننت ناگ ، سوپور ، پلوامہ اور ترال میں بھی مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم، خاتون زخمی
شہر خاص میں نماز جمعہ کے بعد اُس وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب پولیس نے احتجاج اور خشت باری کر رہے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے بے تحاشہ شلنگ کی جس کی وجہ سے نوہٹہ ، گوجوارہ اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو ایک بار پھر مرچی گیس سے تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرناپڑا۔ دریں اثنا اننت ناگ ، پلوامہ ، ترال اور سوپور میں بھی نماز جمعہ کے بعد مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم آرائیاں ہوئیں جبکہ لالچوک اننت ناگ میں پتھر لگنے سے ایک خاتون شدید طورپر زخمی ہوئی اور اسے فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا ۔ جے کے این ایس کے مطابق تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد جب لوگ باہر آئے تو پولیس کی بھاری تعداد دیکھ کر انہوں نے اس پر احتجاج کرنا شروع کیا۔اسی اثناء میں یہاں نوجوان کی ایک بڑی تعداد اپنے ہاتھوں میں پوسٹر لئے آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ان کا تعاقب کرنا شروع کیا جس دوران احتجاجی نوجوانوں نے پتھراوکیا۔پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے ان پر جوابی پتھراوکے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج اور شلنگ کی۔پولیس نے مرچی گیس کے گولے داغے گئے جس کے بعد طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے باعث پورا علاقہ اشک آور گولوں سے لرز اٹھا اور ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیااورشلنگ اور مرچی گیس سے نمازیوں اور علاقہ میں لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران نوجوانوں کی ایک ٹولی نے پولیس اسٹیشن کی طرف جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گولے داغے جس کے بعد احتجاجی نوجوانوں نے شدید خشت باری کی۔اشک آور گولوں کی وجہ سے علاقہ دھویں سے بھر گیا جبکہ سڑکوں پر ہر طرف پتھر اور اینٹیں نظر آرہی تھیں۔نوہٹہ میں پولیس کی بھاری جمعیت نے ایک گلی میں گھس کر وہاں کئی نوجوانوں کو پکڑ لیا۔گوجوارہ میں مشتعل نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑا کرکے آزادی کے حق میں نعرے لگائے جس کے ساتھ ہی وہاں دکانیں بند ہوئیں اور ٹریفک کی آمد ورفت رک گئی۔ پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے شلنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں اور خشت باری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کر نے کیلئے فورسز نے شدید شلنگ کرنے کے علاوہ مرچی گیس کا استعمال کیا جس سے گوجوارہ اور ملحقہ علاقوں میں افراتفری پھیل گئی اور جھڑپوں کا سلسلہ راجوری کدل اور دیگر علاقوں میں شروع ہوا جس کے ساتھ ساتھ ہی ان علاقوں میں آناً فاناً کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوا۔احتجاج کررہے نوجوانوں اورفورسز کے مابین کئی گھنٹوں تک پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز نے ایک بار پھر علاقہ میں حد سے زیادہ مرچی گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں مکینوں کو تکلیف دن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی لوگوں کے مطابق فورسز کی طرف سے کئی گئی شلنگ کے نتیجے میں کئی شل مکانوں کے صحنوں میں گر گئے اور مرچی گیس کا دھواں ہر طرف پھیل گیا اور گھروں کے اندر بیٹھے بچوں ،خواتین اور بزرگوں کو شدید تکلیف ہوئی۔ادھر نماز جمعہ کے بعد لالچوک اننت ناگ میں نوجوانوں نے سبزار احمد بٹ کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا اس دوران پہلے سے تعینات پولیس وفورسز نے نوجوانوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور پتھراو کیا ۔ نمائندے کے مطابق نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے فورسز ے ٹیر گیس شلنگ کی جس کی وجہ سے لالچوک اننت ناگ میں آناً فاناً کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے ۔ نمائندے کے مطابق جامع مسجد اسلام آباد میں اُس وقت سنسنی کا ماحول پھیل گیا جب سارہ بیگم زوجہ محمد شفیع ساکنہ ریشی بازار اننت ناگ کے سر میں پتھر جا لگا جس کی وجہ سے وہ شدید طور پر زخمی ہوئی اور اسے فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور ترال میں بھی نماز جمعہ کے بعد مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کی وجہ سے کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے ۔ علاوہ ازیں مرکزی جامع مسجد سوپور سے بھی نوجوانوں نے مقامی جنگجوؤں کی یاد میں احتجاجی جلوس نکالا تاہم فورسز نے مظاہرین کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے اُن پر شدید شلنگ کی جس کی وجہ سے سوپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا ۔ نمائندے کے مطابق مظاہرین اور فورسز کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔
Comments are closed.