8مرتبہ نماز جنازوں کی ادائیگی اور مکمل ہڑتال کے بیچ ترال جھڑپ میں جاں بحق مقامی جیش جنگجو ؤں سپرد خاک
نماز جنازوں میں سروں کا سیلاب اُمڈ آیا ، جلوس جنازہ میں عساکر بھی نمودار ، ہوائی فائرنگ کرکے ساتھیوں کو سلامی دی
سرینگر/25 اپریل/سی این آئی مکمل ہڑتال اور آتھ مرتبہ نماز جنازوں کی ادائیگی کے بیچ ترال جھڑپ میں جاں بحق مقامی جیش جنگجوؤں کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے اپنے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا ۔ادھر ایک مرتبہ پھر جاں بحق جنگجوؤں کے ساتھیوں نے حیران کن طور پر جاں بحق جنگجو ؤں کے نماز جنازہ میں شرکت کرکے ہوا میں گولیوں کے کئی راونڈ چلا کر جاں بحق جنگجو کو خراج عقیدت پیش کیا۔سی این آئی کے مطابق لام ترال علاقے میں منگل کی روز فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان خونین معرکہ آرائی کے دوران عسکری تنظیم جیش محمد سے وابستہ چار جنگجوؤں جاں بحق ہوئے گئے تھے جن میں سے دو مقامی اور دو غیر ملکی تھے ۔ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے مقامی جنگجوؤں کی شناخت اشفاق احمد خان عرف ہارس بھائی ساکنہ ہنددورہ ترال جبکہ دوسرے کی شناخت عابد مقبول عرف عمر بھائی ساکنہ خان گنڈ ترال کے بطور ہوئی ہے ۔ نمائندے کے مطابق منگل کی شام دیر گئے جنگجو ؤں کے جاں بحق ہونے کی خبران کے آبائی علاقوں میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور ان کے آبائی گاؤں کے ساتھ ساتھ متعدد علاقوں میں شبانہ احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ اگرچہ شام دیر گئے دونوں جنگجوؤں کی نعشیں آبائی علاقوں میں پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ رات بھر جاری رہا۔حکام کو امن و قانون کی صورتحال میں خرابی پید اہونے کا احتمال ہے، اس لئے حساس علاقہ جات میں راتوں رات پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی عمل میں لا ئی گئی۔بدھ کی صبح آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداترال پہنچ گئے جس دوران دونوں جاں بحق جنگجوؤں کے نماز جنازے ادا کئے گئے ،عین شاہدین کے مطابق لوگوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر قریب چار چار مرتبہ نما ز جنازہ ادا کیا گیا ،۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کے نماز جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد اس کو اپنے آبائی مقبرے میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوؤں کے یاد میں ترال میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی ۔ ادھر نمائندے کے مطابق ترال میں بھی صبح سویرے نوجوانوں نے جاں بحق عسکریت پسندوں کے حق میں احتجاجی جلوس نکالا اور شاہراہ پر پہنچ گئے۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے کئی جنگجوؤں نے نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران عسکریت پسندوں کو سلامی بھی دی گئی ۔ تاہم پولیس ذرائع نے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ۔
Comments are closed.