؂کھٹوعہ معاملے میں ملوث افراد کو سز ا دینے کا مطالبہ ، شمال و جنوب میں تعلیمی اداروں میں پھر تشدد بھڑک اٹھا

احتجاجی طلبہ اور فورسز کے مابین پُر تشدد جھڑپیں ،ٹیر گیس شلنگ ، کئی پولیس اہلکار سمیت درجنوں طلبہ مضروب

سرینگر/23اپریل : کھٹوعہ کی معصوم بچی کے قاتلوں کو سز ا موت دینے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کے حق میں سوموار کو ایک مرتبہ پھر سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے بیچ فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان پُر تشدد جھڑپوں اور ٹیر گیس شلنگ میں کئی پولیس افسروں سمیت نصف درجن طلبہ زخمی ہو گئے ۔ سی این آئی کے مطابق طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اگرچہ انتظامیہ نے کئی کالجوں اور ہائیر اسکنڈری اسکولوں میں آج درس و تدریس کا کام معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود سوموار کی صبح درجنوں تعلیمی اداروں میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب کالجوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے ساتھ ہی طلباء طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرکے احتجاجی مظاہرئے شروع کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلع اننت ناگ میں سوموار کو اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب طلبہ نے احتجاجی مظاہرئے شروع کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ قصبے میں ا س وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب طلبہ نے ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہرئے شروع کئے جس دوران وہاں تعینات فورسز اہلکاروں اور احتجاجی طلبہ میں جھڑپیں شروع ہوئی ۔ اسی دوران فورسز نے احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ احتجاجی طلبہ اور فورسز کے مابین جھڑپوں میں ایک طالب علم زخمی ہو گیا ۔ادھر ضلع پلوامہ میں بھی اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب طلبہ کی بڑی تعداد نے کھٹوعہ معاملے کو لیکر احتجاجی مظاہرئے شروع کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریلی میں شامل طلبا و طالبات معصوم بچی کو انصاف فراہم کروں ، قاتلوں کو پھانسی دو کے نعرہ بلند کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ۔ اسی دوران گاندربل سے بھی نمائندے نے اطلاع دی کہ ڈگری کالج گاندربل میں معصوم بچی کے انصاف کے حق میں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور احتجاجی طلبہ کے درمیان جھڑپوں میں کئی طلبہ زخمی ہو گئے ہیں ۔ ادھر سرسرینگر میں بھی طلبہ و طالبات نے احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران انہوں نے معصوم بچی کو انصاف فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ۔ احتجاجی طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کار ڈ تھے، جن پر آصفہ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کے مطالبے کو لیکر تحریریں درج تھیں۔ اسی دوران وادی کشمیر کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ریاستوں کے مختلف مقامات پر لوگوں نے معصوم آصفہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ شمالی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپور میں پیر کی صبح درجنوں طالب علم سڑکوں پر نکل آئے اور آٹھ سالہ کمسن بچی کے قاتلوں کو پھانسی دے دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ احتجاجی طلباء جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، نے قصبہ میں احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی۔ تاہم جب سیکورٹی فورسز نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی تو طرفین کے مابین جھڑپیں شروع ہوئیں۔سیکورٹی فورسز نے پتھراؤ کے مرتکب احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا شدید استعمال کیا۔ وادی کے مختلف دیگر علاقوں میں بھی طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، تاہم ان کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ واضح رہے کہ کٹھوعہ کی آٹھ سالہ کمسن بچی کی وحشیانہ عصمت دری اور قتل واقعہ کے خلاف وادی کے تعلیمی اداروں میں گذشتہ قریب دو ہفتوں سے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ کو مجبوراً بعض تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل رکھنی پڑ رہی ہیں۔

Comments are closed.