پاکستان زیر اہتمام کشمیر کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے دیپیکا راجاوت کو آغازی رکنیت سے نوازا

دنیا آج بھی امن کے راستے پر گامزن ہو سکتی ہے/ ایڈوکیٹ دیپیکا رجاوت

سرینگر///کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس میں متاثرہ لڑکی کو انصاف فراہم کرانے کے حوالے سے پاکستان کے زیر اہتمام کشمیر کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایڈووکیٹ دیپیکا ٹھسو رجاوت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں اعزازی رکنیت سے نوازا ۔کشمیر نیوز بیریو کو ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایڈووکیٹ دیپیکا کو ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں ان کے با جرت ہو کر کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس کی نمائندگی کرنے کا اعتراف کیا گیا ہے ۔38 سالہ دیپیکا ٹھسو سنگھ ایک کشمیری پنڈت ہیں، جن کے گھر والوں نے1986 میں اپنے آبائی گاؤں کری ہامہ جو شمالی کشمیر میں واقع ہے سے ہجرت کر کے جموں میں رہائش اختیار کی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں بار ایسوسی ایشن کی مخالفت کے باوجود دیپیکا نے کیس لینے کا فیصلہ کیا۔ دیپیکا کا کہنا تھا کہ انہیں بہت سے لوگوں نے دھمکی دی ہے، انھیں ہندو مخالف کا لیبل لگایا گیا ۔ بار ایسوسی ایشن نے انہیں حاضر نہ ہونے کو کہا ورنہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کو کیسے روکنا ہے ۔ مگر ان سب دھمکیوں کے باوجود، وہ یہ کیس لڑنا چاہتی ہیں نہ صرف آصفہ کے لیے بلکہ اپنی چھوٹی بیٹی کے لیے ۔انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔ صرف دیپیکا ہی نہیں بلکہ ان کے کونسل رکن ایڈووکیٹ طالب حسین پر غنڈوں نے2 بار اس غرض سے حملہ کیا کیونکہ وہ کٹھوعہ واقعہ کی متاثرہ آصفہ کے حق میں اپنی آواز اٹھاتے تھے اور متاثرہ کو انصاف فراہم کرانے کے لئے جموں میں احتجاج کرتے تھے ۔ایڈووکیٹ دیپیکا نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کشمیر نیوز بیریو سے کہا کہ، ’’یہ ان کے لیے حوصلہ افزائی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں امن کے لیے دائرہ کار موجود ہے اور اج بھی دنیا امن کے راستے پر گامزن ہو سکتی ہے۔‘‘ (نیوزاجنسی)

Comments are closed.