تیز آندھی ، بادل پھٹنے کے واقعات اور آسمانی بجلی کڑکنے کی خوفناک آوازیں
جنوبی کشمیر میں لوگ گھروں میں سہم گئے ، درجنوں مکانوں کے چھت اڑ گئے ، درخت اکھڑ آئے ، بجلی نظام درہم برہم
سرینگر/20اپریل / وادی کشمیر میں جاری موسلا دار بارشوں کے بیچ جنوبی کشمیر کے درجنوں علاقوں میں تیز آندھی ، بادل پھٹنے اور بجلی کڑکنے کی آواز سے لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر پائی جاری ہے جبکہ تیز آندھی کے نتیجے میں جہاں درجنوں مکانات کے چھت اڑ گئے وہیں درختوں اکھڑ آنے سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ۔ اسی دوران لو گوں نے پی ڈی ڈی اور سیول انتظامیہ کے خلاف زبردست غم و غصہ کی لہر دورڈ رہی ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ برقی رو فراہم کرنے کیلئے جلد ازجلد اقدامات اٹھائے جائیں۔ سی این آئی کے مطابق خراب موسمی صورتحال اور تازہ بارشیں اور کئی مقامات پر ژالہ باری کی وجہ سے شما ل و جنوب میں میوہ جات مکمل طور پر تباہ و برباد ہو کر رہ گئے جبکہ سبزیوں کی کیاری ، سرسوں اور دوسری فصلیں مکمل طور پر تباہ وبرباد ہو کر رہ گئیں۔ کئی عمر رسیدہ افراد کے مطابق انہوں نے زندگی اس قدر کی موسمی صورتحال نہیں دیکھی ہے مقامی لوگوں کے مطابق ان علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں میں مسلسل بارشیں ہوئی جس کی وجہ سے سیب اور کھڑی فصلوں کا اب نام و نشان تک باقی نہیں رہ گیا ہے۔ادھر .جنوبی کشمیر کے درجنوں علاقوں میں جمعہ کے بعد دوپہر اس وقت خوف و دہشت پھیل گیا جب تیز آندھی ، بادل پھٹنے اور بجلی کڑکنے کی واقعات رونما ہونے کے بعد لوگ گھروں میں سہم کر دہ گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ تیز ہواؤں اور کئی مقامات پر زبردست ژالہ باری کے نتیجے میں کھڑی فصلوں اور سیب کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ وقفے وقفے سے بارشیں ہونے کے باعث باغ مالکان اور کسان خون کے آنسوں رونے پر مجبور ہو گئے ہیں اور ان کی سال بھر کی آمدنی کے ذرائع مکمل طو پر تباہ وبرباد ہو گئے ہیں۔ کئی سیاسی ، سماجی تنظیموں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ جن علاقوں میں شدید بارشیں اور ژالہ بھاری ہوئی ہے اور کھڑی فصلوں میوہ جات کو نقصان پہنچا ہے ان علاقوں کے متاثرین کی امداد کے سلسلے میں فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ ادھر نمائندے نے بتایا کہ ونتی پورہ اور ترال کے درجنوں علاقوں میں ؤاس وقت خوف و دہشت کی لہر پھیل گئی جب اچانک تیز آندھی اور بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔معلوم ہوا ہے کہ تیز اندھی کی وجہ سے کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ گیا ہے جبکہ درجنوں علاقوں میں بجلی پول اور درخت اکھاڑ آئے جس کے نتیجے میں بجلی کا نظام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ۔ تیز آندھی کے نتیجے میں درجنوں درخت اکھڑ آئے جس کے نتیجے میں سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی بند ہوئی جبکہ کئی مقامات پر مکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچ گیا ہے ۔اسی دوران تیز ہوائیں کے دوران ترسیلی لائنیں ، بجلی کے کھمبے گر جانے کی وجہ سے اکثر علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے درجنوں علاقوں میں بجلی کے کھمبے اکھڑ جانے کے باعث سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی یہ علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں اور جب متعلقہ علاقوں کے لوگ محکمہ پی ڈی ڈی کے حکام سے بجلی پول نصب کرنے ترسیلی لائنوں کی مرمت کرنے کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں تو متعلقہ محکمہ کے اہلکاروں سے یہ کورا جواب مل رہا ہے کہ محکمہ کے پاس فنڈس کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے وہ فی الحال نئے بجلی پول نصب کرنے اور ترسیلی لائنوں کی مرمت کرنے سے قاصر ہیں۔ فنڈس دستیاب ہونے کے بعد ہی اس طرح کی کاروائیاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں ۔
Comments are closed.