پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث لشکر طیبہ کے دہشت گرد پر 15 لاکھ روپے انعام، مختلف مقامات پر پوسٹر چسپاں

جموں و کشمیر پولیس نے اننت ناگ ضلع میں گزشتہ ماہ ایک پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث لشکر طیبہ کے دہشت گرد محمد لطیف بٹ کی گرفتاری میں مدد دینے والی قابل اعتماد اطلاع پر 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

پولیس نے مطلوب دہشت گرد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے وادی کشمیر کے مختلف اہم مقامات پر پوسٹرز بھی چسپاں کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق محمد لطیف بٹ جو کولگام کا رہائشی ہے، پر الزام ہے کہ اس نے 22 جولائی کو اننت ناگ کے لال چوک میں ایک بھیڑ بھاڑ والے بازار کے علاقے میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے محمد لطیف بٹ کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جو مبینہ طور پر واردات کے بعد موقع پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی اسکرین گریبس سے حاصل کی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق مطلوب دہشت گرد کی عمر 22 سال ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس محمد لطیف بٹ کی موجودگی یا نقل و حرکت سے متعلق کوئی قابلِ اعتماد معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کرے۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر دہشت گرد کی گرفتاری میں مدد دینے والے شخص کو 15 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

Share This Article
تعمیل ارشاد جموں و کشمیر کا ایک معتبر اردو روزنامہ ہے جو دہائیوں سے غیر جانب دار اور مصدقہ خبریں فراہم کر رہا ہے۔
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے