پیر پنچال ابل پڑا، تمام مساجد میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس برآمد

مجرموں کو پھانسی اور لال سنگھ و چندر پرکاش گنگا کو کابینہ سے برطرف کئے جانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

سرینگر//13ٌ ؍اپریل؍؍؍ ضلع کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاؤں میں جنوری کے ماہ میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور عصمت دری واقعہ میں ملوث لوگوں کو پھانسی دینے ، کابینہ وزراء چوھدری لال سنگھ اور چند پرکاش گنگا کو کابینہ سے برطرف کئے جانے، ملوثین کے حق میں جموں میں وکلاء کی جانب سے بند کال و نکالی جانے والی غیر اخلاقی ریلیوں، گزشتہ روز کولگام میں ھوئی شہری ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کیلئے آج پونچھ میں بعد نماز جمعہ بھاری تعداد میں لوگوں نے جامعہ مسجد پونچھ سے ایک احتجاجی جلوس نکالا جو پریڈ گراؤنڈ میں ختم ھوا جہاں علماء نے بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ، جموں کے تعصبی روئے کی شدید الفاظ میں مذمت کی وہیں یشن نامی تنظیم نے امتیاز سلاریہ اور چوھدری محمد اسعد نعمانی کی قیادت میں بھی ایک احتجاجی جلوس نکالا اور مجرموں کے حمایتی دونوں وزراء کے پتلے خاکستر کئے وہیں راجوری میں آئمہ مساجد میں آصفہ کھ قاتلوں کو پھانسی دینے اور بار ایسوسی ایشن جموں کی بند کال پر تشویش کا اظہار کیا گیا وہیں مجرموں کو پھانسی دیکر کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی گئی وہیں راجوری میں اسی نوعیت کا بڑا احتجاجی جلوس کوٹرنکہ راجوری میں نکالا گیا جہاں گفتار احمد چوھدری، گجر بکروال یوتھ کانفرنس کے ریاستی سینئر ناہب صدر نے اس کی قیادت کی جو یہ مانگ کر رھے تھے کہ آصفہ کے قاتلوں کو جلد از جلد تختہ دار پر لٹکا کر اس کے لواحقین کو انصاف فراھ کیا جائے وہیں معزز شہریوں نے اپنے خطابات میں جموں میں بند کال کو غیر اخلاقی، غیر قانونی اور حیوانیت کا ڈونگ رچانے سے تعبیر کرتے ھوئے وکلاء جنھوں نے کورٹ کے میں خلل ڈالا ان کے لائسنس خارج کرنے کی بھی مانگ کی گئی ?وہیں پونچھ میں پریڈ گرؤنڈ میں جمع ھوئے جم غفیر سے خطاب کرتے ھوئے علماء نے کولگام میں پیلٹ کا بے تحاشہ استعمال اور شہری ہلاکتوں کی شدید الفاظ مین مذمت کرتے ھوئے مظلوم کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کا مظاھرہ بھی کیا.ملوثین کے حق میں ریلیاں اور مظاہرے غیراخلاقی ہیں۔ ملک کا قانون عظیم ہے۔ انصاف کی فتح ہوگی علماء نے اپنے بیانات میں کہا، دامنی نربیا سے الگ آصفہ معاملہ کو تعصب کی عینک سے نہیں دیکھنا چائے علماء نے ھناؤ میں پیش آئے عصمت دری معاملے کی بھی شدید الفاط میں مذمت کی.

Comments are closed.