سال 1996سرینگر تشدد کیس: این آئی اے نے شبیر شاہ سمیت چھ سینئر لیڈران کےخلاف چارج شیٹ دائر کردی

قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سال 1996میں سرینگر میں پیش آئے تشدد، پولیس اہلکاروں پر حملوں اور مبینہ مجرمانہ سازش سے متعلق مقدمے میں حریت کانفرنس کے چھ سینئر رہنماو¿ں کے خلاف خصوصی این آئی اے عدالت جموں میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔

این آئی اے کے مطابق یہ مقدمہ اصل میں 17 جولائی 1996ءکو سرینگر کے شیرگڑھی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر ایک مقامی ملی ٹنٹ ہلال احمد بیگ کے جنازے کے جلوس کے دوران پیش آیا تھا، جہاں بڑے پیمانے پر تشدد، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔

چارج شیٹ میں جن رہنماو¿ں کے نام شامل کیے گئے ہیں ان میں شبیر احمد شاہ، مرحوم سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون، محمد یعقوب وکیل (المعروف محمد یعقوب وکیل)، جاوید احمد میر اور شکیل احمد بخشی شامل ہیں۔

این آئی اے نے ملزمان کے خلاف رنبیر پینل کوڈ 1989ءکی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں مجرمانہ سازش، اقدامِ قتل، فساد برپا کرنے، سرکاری ملازمین پر حملہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 13 شامل ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق مرحوم سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد یعقوب وکیل کے خلاف کارروائی ان کے انتقال کے باعث قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے، تاہم چارج شیٹ میں مبینہ سازش اور غیر قانونی اجتماع میں ان کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے ایجنسی نے اپنی تحقیقات کے دوران حاصل کردہ شواہد کی بنیاد پر شامل کیا ہے۔

Comments are closed.