کہانی ایک جھنڈے کی
ڈاکٹر سید شجاعت بخاری
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے سدھا رمیا نے 8مارچ کو اعلان کیا کہ وہ اپنی ریاست کے لئے الگ جھڈا اپنا رہے ہیں ، جس کے لئے انہوں نے مرکزی سرکار کو ایک تجویز بھیجی ہے اور ان کو مثبت جواب کی امید ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا بھی اپنا ایک الگ جھنڈا ہے۔ چونکہ سدھا رمیا بذات خودایسا کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، اس لئے ان کے لئے مرکز کی رضا مندی حاصل کرنا لازمی ہے۔انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ” چونکہ ریاستی حکومت کو از خود ایسا کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے، اس لئے ہم نے اس حوالے سے ایک تجویز حکومت ہند کو بھیج دی ہے کہ ہمیں اپنی ریاست کے لئے ایک علیحدہ جھنڈہ رکھنے کی اجازت دی جائے، امید ہے کہ وہ عنقریب اس سلسلے میں کوئی باضابطہ سرکاری اعلان کریں گے“ اس بیان سے جو دوسری بات واضح ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اور بھارت کی باقی 20ریاستوں کے تعلقات، اختیارات اور معاملات کے درمیان کتنا فرق ہے۔
جہاں تک ریاست جموں و کشمیر کے لیے ایک علیحدہ جھنڈے کی کہانی کا تعلق ہے، یہ کافی پرانا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ اس کا اپنا ایک علیحدہ آئین بھی ہے لیکن مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک طرف جہاں یہ اس واحد مسلم اکثریتی ریاست کی امتیازی حیثیت کا مظہر ہے، وہیں اس مسئلہ کو ایک عرصے سے موضوعِ بحث بنا دیا گیا ہے اور اس حوالے سے روزہی کوئی نہ کوئی نئی بات سامنے آتی رہتی ہے۔ باوجود اس کے کہ جموں و کشمیر کا جھنڈا بھارتی ترنگے کے ساتھ ساتھ لہرایا جاتا ہے، اس کو کئی بار عدالت میں بھی چیلنج کیا جا چکا ہے، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک ممبر فاروق احمد خان بھی شامل ہے، جس نے سال2015ءمیں ریاستی ہائی کورٹ میں اس حوالے سے ایک عرضی داخل کی تھی۔ حالانکہ اس حوالے سے عدالت کچھ عرصے سے خاموش ہے لیکن دوسری جانب فاروق خان نامی ریٹائرڈ پولیس آفیسر کو انعام و اکرام کے طور پر لکش دیپ کا منتظم بنا دیا گیا۔ فاروق خان نے یہ اقدام اس وقت اٹھایا ، جب ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے اپنے ایک سرکیولر میںکہا تھا کہ ریاستی جھنڈے کو اس کی آئینی حیثیت کے مطابق تقدس دیا جانا چاہیے ۔ یہ سرکیولر عبدالقیوم خان نامی شخص کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی عرضی کے نتیجے میں سامنے آیا تھا، جس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ریاستی جھنڈے کا تقدس قائم رکھنے کے لئے ہدایات جاری کی جائیں۔یہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور پی ڈی پی کی نئی مخلوط حکومت کے درمیان پیدا ہونے والا پہلا اختلاف تھا ، جس کے بعد اس سرکیولر کو سرکاری ویب سائٹ سے خاموشی کے ساتھ ہٹا دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نے کی نوبت اس وقت آئی، جب بی جے پی اور پی ڈی پہلے ہی ایک عہد نامہ” ایجنڈا آف الائنس“ کے تحت اقتدار میں آچکی تھیں۔ اس ’عہد نامہ‘ میں صاف طور پر درج تھاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور پی ڈی پی ریاست جموں و کشمیر کی سبھی آئینی حیثیتوں، بشمول ریاست کی موجودہ خصوصی حیثیت کا ہر حال میں احترام کریں گی۔
جہاں تک جموں و کشمیر کے جھنڈے کا تعلق ہے، اس کا پسِ منظر سرخ رنگ کا ہے اور اس پر حل کے علاوہ تین لکیریں بنی ہوئی ہیں، جو ریاست کے تینوں خطوں، جموں، کشمیر اور لداخ کی نمائندگی کرتی ہیں، اس کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے ، جس کا 1931ءکے بعد ابھر نے والی سیاسی تحریک کے ساتھ کافی گہرا تعلق ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی جڑیں13جولائی1931ءکے اُس وقعہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ، جس میں اس وقت کے مہاراجہ نے سرینگر کے سینٹرل جیل کے باہر ایک احتجاجی جلوس پر فائرنگ کا حکم دیا تھا، جس میں21افراد شہید ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دوران احتجاج کسی شخص نے انہی شہدا میں سے کسی کی خون سے لت پت قمیض اٹھائی اور اس کو ریاست جموں و کشمیر کے قومی جھنڈے کے طور ہجوم میں لہرا یا۔آگے چل کر 11جولائی1939ءکو اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس، جو کہ ڈوگرہ مہاراجہ کے خلاف تحریک کی قیادت کر رہی تھی، نے اس کو ریاستی جھنڈے کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا۔کچھ اور برس بعد 7جون1952ءکو ریاست کی قانون ساز اسمبلی میں اس حوالے سے ایک باضابطہ قرار داد پاس کرکے اس کو باضابطہ طور ریاستی جھنڈے کے طور قانوناً طور اپنایا گیا ، تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس جھنڈے کو 1947سے 1952تک برابر قومی جھنڈے کے طور پر اپنا یا جاتا رہا ہے۔این سی کا اپنا ایک ترانہ بھی تھا، جو تنظیم کے سینئر لیڈر مولانا محمد سعید مسعودی نے لکھا تھا لیکن اس کو ریاستی ڈھانچے میں شامل نہیں کیا گیا ، اس ترانے کو آخری بار 2001ءمیں اس وقت گایا گیا، جب عمر عبداللہ کو پارٹی صدر کے طور حلف دلایا گیا ۔
صورت حال میں تب تبدیلی آئی، جب بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور ریاستی وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ مرکز اور ریاست کے درمیان تعلقات اور اختیارات کی وضاحت کے حوالے سے 1952ءمیں ایک عہد نامے( معاہدے) پر رضامند ہوئے ۔ اس معاہدے کے بعد طے پایا کہ ترنگا ملک کا قومی جھنڈا ہے جبکہ حل والا جھنڈا ریاست کا جھنڈا ہوگا اور دونوں کو ساتھ ساتھ لہرایا جائے گا۔ مذکورہ معاہدے کے سیکشن ivمیں اس حوالے سے کچھ یوں درج ہے:
” مرکزی حکومت اس بات پر رضامند ہوئی کہ جموں و کشمیر کا ترنگے کے علاوہ اپنا ایک ریاستی جھنڈا بھی ہوگاجبکہ ریاست کی جانب سے یہ بات تسلیم کی گئی کہ قومی جھنڈے کا ریاستی جھنڈے کے ساتھ کوئی تضاد نہیں ہوگا ، اس بات پر بھی آمادگی ظاہر ہوئی کہ قومی جھنڈے کو ریاست جموں و کشمیر میں بھی وہی تقدس اور احترام حاصل رہے گا، جو اس کو بھارت کی باقی ریاستوں میں حاصل ہے لیکن ان تاریخی وجوہات کے پیشِ نظر، جن کا تعلق ریاست کی جدوجہد برائے آزادی کے ساتھ ہے، ریاستی جھنڈے کی ضرورت کو تسلیم کیا جاتا ہے“ اس تناظر میں جموں و کشمیر کے آئین میں بھی اس کو تسلیم کرلیا گیا۔
حل والے ریاستی جھنڈے کا ڈیزائن سب سے پہلے کس نے تیار کیا، اس بارے میں کوئی واضح تاریخی ثبوت نہیں ملتا تاہم اس حوالے سے ایک نام موہن رینہ کا بھی لیا جاتا ہے ، اس کا تعلق ایک مصور کنبے سے بتایا جاتا ہے ،تاہم ایک اورروایت یہ بھی ہے کہ حل والے جھنڈے کو پہلی بار پی این دھر نامی ایک شخص نے تیار کیا، جو نیشنل کانفرنس کا ممبر اور ایک افسانہ نگار تھا ، بعد میں ریڈیو کشمیر کے ساتھ منسلک ہوگیا ، جبکہ یہ بات بھی سچ ہے کہ حل والا جھنڈا نیشنل کانفرنس کا پارٹی جھنڈا بھی چلا آرہا ہے۔
اس کہانی کے علاوہ کہ یہ جھنڈا سن1931ءمیں سرینگر میں21 شہریوں کی ہلاکت کے بعد منظر عام پر آیا، مذکورہ جھنڈا ایک ایسی تحریک یا جدوجہد کا ترجمان رہا ہے، جو عوام کے حقوق اور شخصی نظام کی جانب سے ان کے استحصال کے خلاف 1947ءسے قبل سامنے آئی تھی۔ وادی کے مشہور ’ماہرِ سیاسیات‘ گل وانی کا کہنا ہے ” یہ جھنڈا کہیں باہر سے ہم پر مسلط نہیں کیا گیا، یہ کسی امیر طبقے کا نظریہ یا تصور بھی نہیں تھا بلکہ یہ ایک سیاسی تحریک کا ترجمان ہے “ اگر چہ یہ ایک جانب تاریخی حقیقت ہے لیکن دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ نیشنل کانفرنس کا نظریہ ” نیا کشمیر“ کمیونسٹ پارٹی کے نظریے سے کافی متاثر تھا ۔
ابھی جبکہ ریاست جموں و کشمیر کا اپنا ایک جھنڈا پہلے سے موجود ہے، اس دوڑ میں کرناٹک کی شمولیت سے کوئی خاص فرق نہیں آسکتا کیونکہ دونوں کی سیاسی وجوہات مختلف ہیں تاہم یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس نظریے سے ضرور ٹکراتا ہے، جس کا مقصد ریاست کو مکمل طور پر ہندوستان میں ضم کرنا ہے ،جو اس کی اندرونی پالیسی کا حصہ ہے ۔ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ کسی ریاست کو الگ جھنڈا رکھنے کی اجازت دے کر اس کو ایک الگ پہچان دینے کا فیصلہ تب تک کافی مشکل ہے، جب تک بی جے پی مرکز میں برسرِ اقتدار ہے کیونکہ یہ ان کے نظریات کے ساتھ متصادم ہے لیکن بر عکس اس کے جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے، ہمارے ریاستی جھنڈے کو معاہدوں اور آئین کے علاوہ یہاں کی مقامی سیاسی جماعتوں جیسے این سی اور پی ڈی پی کے علاوہ مرکزی جماعت کانگریس کی جانب سے بھی حمایت اور تحفظ حاصل ہے۔
Comments are closed.