کشمیر کا ’داغدار‘موسمِ بہار
ڈاکٹر سید شجاعت بخاری
کہا جاتا ہے کہ کشمیر کے موسم کا کوئی اعتبار نہیں، کب اور کیا کروٹ بدلے،پیشن گو ئی مشکل ہے ۔ پچھلے چند ایک برسوں سے یہاں کے موسم میںناخوشگواری اورا داسی کے بادل چھائے رہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ ہر ذی حس یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ” اب آگے کیا ہوگا“۔ اگر رواں برس کو ہی دیکھ لیا جائے تو اس کی شروعات بھی کچھ خاص بہتر انداز سے نہیں ہوئی ، جس کے تناظر میں کہا جاسکے کہ یہ سال بھی عوام کی زندگی پر کوئی مثبت اثر مرتب کرسکے۔ موسمِ بہار کا آغاز اس سال بھی کشمیر میںشوپیاں میں فوج کے ہاتھوں چار عام شہریوں کی دلدوز اور افسوس ناک ہلاکت کے ساتھ ہوا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی جوازیت تلاش کرنے کی ابھی تک کوشش ہی ہو رہی ہے ۔ ایک عام آدمی کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک معمول کی ہلاکت کا واقعہ تھا ، یہ سلسلہ چونکہ یہاں ایک عرصے سے جاری ہے اور اس طرح کے حادثات پر عام آدمی ایک ہی کام کر سکتا ہے اور وہ ہے ماتم۔باقی دنیا میں اگر چہ بہار کا موسم رنگ و نور اور امید کی نوید لے کر آتا ہے لیکن کشمیر میں یہ موسم ماتم کدہ ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ شوپیاں علاقہ اس طرح کی دلدوز خبروں کے لئے کافی وقت سے اخبارات کی سرخیوں میں چھایا ہوا ہے ۔ جنوری میں اس علاقے میں فوج نے تین عام شہریوں کو قتل کرکے یہ جواز پیش کیا تھا کہ ان کو اپنے دفاع میں گولی چلانا پڑی ، حالانکہ اس دعویٰ کو مقامی لوگوں نے سختی سے رد کیا اور ابھی تک اس حوالے سے انصاف کا حصول ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
ان معاملات کے حوالے سے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ دونو ں جانب سامنے آنے والے بیانات میں لا محدود تضادات کی خلیج پائی جاتی ہے ۔فوج کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو اس نے ہلاک کیا وہ عسکریت پسندوں کے بالائے زمین مدد گار تھے اور عسکریت پسندوں کو ایک گاڑی میں ساتھ لے کر سفر کر رہے تھے، اس لئے ان پر فائر کھولنا پڑا اور عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ ان کے دیگر ساتھی بھی مارے گئے۔ اس حوالے سے اصل حقائق جو بھی ہوں، یہ طے ہے کہ وہ کبھی بھی منظرِ عام پر نہیں آئیں گے کیونکہ اس طرح کے لا تعداد واقعات یہاں پہلے بھی پیش آچکے ہیں جن کی وجہ سے یہاں کی زمین لہو رنگ ہو چکی ہے ۔فوج نے جہاں پہلے دن اپنے بیان میں جاں بحق ہونے والے افراد کو ’ بالائے زمین عسکریت پسند‘ قرار دیا، وہیں اگلے روز اس نے اپنے بیان میں تھوڑی سی ترمیم بھی کی ۔ 12راشٹریہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر برگیڈئر ہر بیر سنگھ نے اس واقعہ کے حوالے سے صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ معاملہ تحقیقات طلب ہے ۔عام شہریوں اور بالائے زمین ورکروں کے درمیان ایک باریک لکیر کا فرق ہوتاہے ۔یہ بلا شبہ عام شہری تھے ۔ معاملے کی تحقیقات ضروری بن جاتی ہے کہ مرنے والے کس حد تک عسکریت پسندوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے“
غورطلب بات ہے کہ اگر تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ مرنے والے بے گناہ اور معصوم افراد تھے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ان کو پھر سے زندہ کرنے کا متحمل ہوسکتا ہے ؟ ایک طرف پولیس کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کررہی ہے اور دوسری جانب ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہہ دیا کہ” شوپیان میں فوج کے ہاتھوں کراس فائرنگ میںمارے جانے والے افراد عام شہری تھے“۔ یہاں بھی بیان بازی میں ایک زبردست تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ فوج نے اپنے بیان میں ’کراس فائرنگ‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ یہ لوگ کراس فائرنگ کی زد میں کیسے آگئے، یہ بھی ایک معمہ ہے لیکن سب سے بڑی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ میں چار لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یہ اور اس طرح کے دوسرے معاملات کو صرف ایک صاف و شفاف تحقیقات ہی منطقی انجام تک پہنچا سکتی ہے لیکن اس طرح کے سابقہ معاملات میں تحقیقات کی شفافیت ایک بڑا مسئلہ رہی ہے ، خاص طور پر ایک ایسے ماحول میں جبکہ مختلف اطراف سے مختلف بیان بازی، جو کہ ان کے اپنے اپنے مفادات کے حق میں ہوتی ہے، جب معاملات پر غالب آجا ئے تو انصاف کے حصول میں تاخیر ہونا ایک قدرتی امر بن جاتا ہے۔صورتحال اس وقت اور بھی زیادہ مشکوک بن جاتی ہے جب یہ بات معلوم ہو کہ ریاستی سرکار اس حوالے سے ایف آئی آر تک داخل کرنے کی پوزیشن میں نہیں، جس سے تحقیقات کے لئے راستہ ہموار ہوسکے۔ ریاستی سرکار کو اسی طرح کے ایک اور واقعہ، جو کہ 27جنوری کو شوپیان میں پیش آیا تھا، کے حوالے سے عوامی احتجاج کی وجہ سے دھول چاٹنی پڑی ۔ اس کیس کے بارے میں پولیس نے فوج کی 10گڑھوال ریجمنٹ کے خلاف مقامی تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی تھی لیکن اس کے خلاف اس قدر شور و ہنگامہ برپا کیاگیا کہ پورا بھارت متحد و یک رائے لگ رہا تھا، خاص طور پر کچھ ٹی وی چینلوں ، جنہوں نے بھارتی قومیت کا سارا ٹھیکہ اپنے نام لکھوا رکھا ہے، نے اس کیس میں ملوث فوجی میجر کی پشت پناہی کی اور عام شہریوں کی موت کو جائز قرار دیا۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک فوجی افسر کے افراد خانہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دلوادیا۔ اس طرح سے کشمیر پولیس کا رول یکسر اور کلی طور پر ختم ہو کر رہ گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ابتداءمیں فورسز کو کاروائی کرنے کے اختیارات دینے کی غرض سے نافذ کیا جانے والا قانون ’ آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ‘ اب ان کے خلاف عائد الزامات اور جرائم سے بچانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں تعینات فورسز کو بے انتہاءاور لا محدود اختیارات دینے والے اس قانون کی وجہ سے لا تعداد مقدمات کی تحقیقات کا عمل متاثر ہوتارہا ہے لیکن جس طرح سے حال ہی میں اس نے اپنا نیا چہرہ دکھایا ہے، اس کی وجہ سے اب یہ عمل ابتداءسے قبل ہی اختتام پذیر ہونے لگا ہے، جس سے تشویش اور نا امیدی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اب تو اس حوالے سے عدالتی تحقیقات بھی متاثر ہورہی ہے جبکہ دوسری جانب پچھلے 27سال کے دوران جن کیسوں میں تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا، ان کا عمل بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت نے اس بار اس سلسلے میں عدالتی تحقیقات کرنے کا بھی اعلان نہیں کیا ، جیسا کہ اب تک کے کیسوں میں ایک معمول ہوا کرتا تھا۔ محسوس یہ کیا جا رہا ہے کہ شائد ریاستی حکومت کو بھی اب یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس طرح کے اعلانات سے صورت حال پر کوئی فرق نہیں پڑتا ،اس لئے اس نے اپنے پیر کھینچ لیے ہیں۔ شوپیان، جو کہ جنوبی کشمیر کا ایک انتہائی حساس حصہ ہے، میں ایک عرصے سے تشدد کی سخت ترین لہر چل رہی ہے ۔ اس علاقے میں حکومت کے خلاف غم و غصے کی لہر اپنی انتہاءکو پہنچ چکی ہے ۔یہی وہ علاقہ ہے جو2016ءمیں عوامی مزاحمت کی شدید ترین لہر کے دوران کئی ماہ تک انتہائی خراب صورت حال کا مرکز رہا ، جس میں عوام کو سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اتنا ہی نہیں اس دوران تقریباً ایک سو انسانی جانوں کا زیاں ہوا اور ایک طویل عرصے تک خوف و دہشت کی شدید لہر چلتی رہی ، اس دوران یہاں پیلٹ گن جیسے انتہائی بدنام زمانہ ہتھیار کابے دریغ استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے متعدد لڑکے اور لڑکیا ں اپنی بینائی سے ہاتھو دھو بیٹھی تھیں اور نا امیدی ، مایوسی اور پریشانی کی اسی صورت حال کی وجہ سے متعدد نوجوانوں کو عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ۔ پولیس ذرائع کا انکشاف ہے کہ پچھلے ایک برس کے دوران130نوجوان ملی ٹنسی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے عسکریت میں جانے سے عوامی مزاحمت میں شدید اضافہ ہوتا ہے، جو سچ مچ باعث پریشانی ہے۔زیادہ تر مقامی نوجوانوں کو مقامی طور پر تربیت دی جاتی ہے اور ان کے پاس بعض اوقات معقول ہتھیار بھی نہیں ہوتے۔ جنوبی کشمیر میں شدت اختیار کرنے والی عوامی مزاحمت کی وجوہات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ دیگر وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کشمیر کو حکومت کی جانب سے ایک سیاسی مسئلہ تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے اور صرف فوجی طریقہ کار اختیار کرکے عوام کے ساتھ شدید اورسخت برتاﺅ کو ہی اس کا واحد حل قرار دیا جا رہا ہے ، جس سے اس شدت میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔ اس صورت حال کو مدِ نظر رکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب جبکہ حکومت کی جانب سے حالیہ ہلاکتوں کے حوالے سے انصاف فراہم کرنے پر بھی روک لگ چکی ہے، صورت حال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ تشدد میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ میجر آدتیہ کے حمایتی سپریم کورٹ سے ملنے والے حکمنامے پر بے شک خوشیاں منا سکتے ہیں لیکن ا صل بات یہ ہے کہ کشمیر بھارتی حکومت کے ہاتھوں سے بدستور پھسلتا رہے گا۔
Comments are closed.