مستقبل چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے لیکن اس میں بے شمار مواقع بھی موجود / لیفٹنٹ گورنر

جموں/25مارچ

لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے بدھ کے روز شراکت داروںکو ہدایت دی کہ وہ باہمی تعاون کو ترجیح دیں اور ایسا ماحول پیداکریں جہاں نیٹ ورکنگ، بہترین طریقہ کار، قومی و بین الاقوامی تجربات اور مشترکہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے ایک مضبوط پیشہ ور کمیونٹی کی تعمیر کی جا سکے۔

اُنہوں نے کہا،”آج کے چیلنجز پیچیدہ اور کثیر جہتی ہیں۔ ان کا حل صرف اجتماعی کوششوں سے ممکن ہے اور ہمیں جموں و کشمیر کی تیز رفتار ترقی کے لئے اسی سمت میں کام کرنا ہوگا۔“

لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اَفراد اِکٹھے ہوں تاکہ غور وخوض کریں ، تجربات کا اِشتراک کریں اورمشترکہ طورپر مسائل کا حل تلاش کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ تعاون اور بات چیت کے ذریعے ہم یونین ٹیریٹری کے لئے ایک مضبوط اور جامع ترقیاتی ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں۔

اُنہوں اِن باتوں کا اِظہار آج پدم شری پدما سچدیو گورنمنٹ پی جی کالج برائے خواتین گاندھی نگر جموں میں منعقدہ ’اِنڈین سوسائٹی فار ٹریننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے جموں چیپٹر‘ کی اِفتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا نے نئی شروعات کے لئے اِنڈین سوسائٹی فار ٹریننگ اینڈ ڈیولپمنٹ( آئی ایس ٹی ڈِی )کی پوری ٹیم کو مُبارک باد دِی۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ایس ٹی ڈِی کا جموںچپٹر سیکھنے اور ترقی کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار اَدا کرے گا اوریہ جموں کو تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے علاقائی مرکز کے طور پر اُبھارے گا۔
اُنہوںنے آئی ایس ٹی ڈِی کے جموں چپٹر کو ہدایت دی کہ وہ روزگار کے مواقع پیداکرنے اور انٹرپرینیورشپ پر توجہ مرکوز کرے اور مقامی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی بنائے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،”مستقبل چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے لیکن اس میں بے شمار مواقع بھی ہیں۔ ہمیں ان مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لئے خود کو تیار رکھنا ہوگا۔“
اُنہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف علم فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبا¿ کو زِندگی کے چیلنجوں اور مواقع کے لئے تیار کرنا بھی ہے۔
منوج سِنہا نے کہا،”ہمیں سافٹ سکلز، تحقیق، اَنٹرپرینیورشپ اور سٹارٹ اَپ کلچر پر توجہ دینی چاہیے۔ تعلیمی شعبے کو رہنمائی اور اکیڈمیا واِنڈسٹری کے باہمی تعاون کے ذریعے وسیع تبدیلی لانی ہوگی۔“
اُنہوں نے آئی ایس ٹی ڈِی کے اراکین پر زور دیاکہ وہ جموں و کشمیر کے صنعتوں، سٹارٹ اپس اور زرعی شعبے میں تربیت، تحقیق اور تعاون پر خصوصی توجہ دیں تاکہ پیداواریت اور مارکیٹ سے روابط کو بہتر بنایا جا سکے۔

Comments are closed.