سینئر صحافی عبدالرشید شاہ کا طویل علالت کے بعد انتقال

وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق صحافی اور روزنامہ ندائے مشرق کے مدیر اعلیٰ و مالک عبدالرشید شاہ ہفتے کی صبح طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ 77 برس کے تھے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق وہ پھیپھڑوں کےعارضے میں مبتلا ہونے کے باعث طویل عرصے سے صاحب فراش تھے اور بالآخر ہفتے کی صبح اپنی رہائش گاہ واقع باغ مہتاب سری نگر میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔

سری نگر کے چنکرال محلہ حبہ کدل میں سال 1948 کو پیدا ہونے والے عبد الرشید شاہ دہائیوں تک وادی کے صحافتی افق پرچھائے رہے جس دوران انہوں نے شعبہ صحافت کی بھر پور آبیاری کی۔
سال 1992 میں ریاستی محکمہ اطلاعات کی ملازمت سے مستعفی ہو کر انہوں نے روز نامہ ندائے مشرق کی بنیاد ڈالی جس نے بہت کم وقت میں سری نگر سے شائع ہونے والے اخبارات میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
وہ اپنے قلم سے تحریر کردہ فکر انگیز اداریوں کے باعث خاص طور پر مشہور تھے اور وادی کے صحافتی حلقوں میں انہیں بے حد قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
قبل ازیں انہوں نے روزنامہ الصفا کے ساتھ بھی بطور جز وقتی ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دئے۔
عبدالرشید شاہ اپریل 2001 میں اس میڈیا وفد کا حصہ تھے جس نے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ہمراہ ایران کا دورہ کیا۔ سال 1995 میں ‘کوکہ پرے’ کی قیادت والی ‘اخوان المسلمون’ نامی ملیشیا نے ان کو دو دیگر صحافیوں سمیت سری نگر کی پریس انکلیو سے اغوا کیا تھا۔
مرحوم کا نماز جنازہ بعد از نماز ظہر باغ مہتاب میں ادا کیا گیا جس کے بعد انہیں مچھوا میں واقع قبرستان میں سپر خاک کیا گیا۔
مرحوم کے پسماندگان میں ان کا بیٹا ہارون رشید شامل ہے جو اپنے والد کے ورثے کو آگے بڑھانے میں محو جد وجہد ہیں۔
دریں اثنا ان کے انتقال سے وادی کے صحافتی حلقے میں غم کی لہر پھیل گئی ہے اور ان کے انتقال کو ایک بڑے نقصان سے تعبیر کیا جا رہا ہے

Comments are closed.