کشمیرکے حساس علاقوں میں کل بھی امتناعی احکامات برقرار رہیں گے
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد وادی کشمیر میں گزشتہ دو روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے پس منظر میں انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حساس علاقوں میں منگل کو بھی امتناعی احکامات نافذ رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی اقدامات مزید سخت رکھے جائیں گے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق پیر کے روز کئی مقامات پر احتجاج دیکھنے کو ملا، جس کے بعد متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور پولیس افسران نے شام دیر گئے صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس دوران یہ فیصلہ لیا گیا کہ حساس اور گنجان علاقوں میں پابندیاں بدستور جاری رہیں گی تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا ہجوم کو روکا جا سکے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق صورتحال مجموعی طور پر قابو میں ہے، تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے منگل کو بھی امتناعی احکامات برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق شہر سرینگر سمیت بڈگام اور پلوامہ کے کچھ علاقوں میں فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، جب کہ داخلی راستوں پر ناکے اور رکاوٹیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و قانون کو برقرار رکھنے میں تعاون کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں پر کان نہ دھریں ۔
Comments are closed.