کشمیر میں امتناعی احکامات نافذ، لالچوک سیل،امکانی احتجاج کے پیش نظر سخت پابندیاں عائد
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد وادی کشمیر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے اتوار کی شام دیر گئے سخت امتناعی احکامات نافذ کر دیے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ حالات کی حساسیت اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر تھا۔
سری نگر کے مرکزی تجارتی مرکز لال چوک کی طرف جانے والی تمام شاہراہوں کو کانٹے دار تاروں، ٹین کی چادروں اور بھاری رکاوٹوں سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس و نیم فوجی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کرتے ہوئے گھنٹہ گھر کے اطراف کڑی نگرانی نافذ کر دی گئی ہے۔ پیدل اور گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کر کے داخلی پوائنٹس پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وادی بھر میں امتناعی احکامات کل بھی نافذ رہیں گے۔ ایک سرکاری افسر نے یو این آئی کو بتایا: ’بڑے احتجاجی ہجوم کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدام ضروری تھا۔ ہماری اولین ترجیح امن و قانون کو برقرار رکھنا ہے۔‘
Comments are closed.