سرینگر میں ہزاروں افراد کا جمِ غفیر؛ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف احتجاج
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر سامنے آتے ہی وادی کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، جس کے بعد سری نگر کے تاریخی لالچوک میں واقع گھنٹہ گھر کے سامنے آج صبح ہزاروں افراد نے جمع ہوکر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
یو این آئی نامہ نگار کے مطابق نمازِ فجر کے فوراً بعد جب رہبرِ معظم کی شہادت کی خبر پھیل گئی تو مختلف علاقوں میں سوگ اور بے چینی کی فضا قائم ہوگئی۔ لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر احتجاجی نعروں کے ساتھ لالچوک کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ مرد، خواتین، بزرگ اور بچے پیدل جلوسوں کی صورت میں گھنٹہ گھر پہنچے، جہاں دیکھتے ہی دیکھتے ایک بہت بڑا اجتماع قائم ہوگیا۔
مظاہرین نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کی شہادت امتِ مسلمہ کیلئے ایک عظیم سانحہ ہے اور عالمی برادری کو اس کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے۔
سری نگر کے کئی علاقوں میں بھی احتجاجی جلوس نکلے جنہوں نے لالچوک کا رخ کیا۔ اس رپورٹ کے فائل ہونے تک شہر کے متعدد حصوں اور وادی کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی احتجاج جاری تھا، جہاں لوگ غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔
انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی سیکیورٹی تعینات کر دی ہے، تاہم مجموعی صورتحال پرامن بتائی جا رہی ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنے احتجاج کو پُرامن انداز میں جاری رکھیں گے تاکہ عالمی سطح پر اپنا پیغام مؤثر طور پر پہنچایا جا سکے۔
Comments are closed.