ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا انتقال
نئی دہلی، یکم مارچ (یو این آئی) ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اتوار کو تصدیق کی کہ ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق ان کا انتقال ہفتہ کو ایک ممکنہ امریکی میزائل حملے میں ہوا۔ اس بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات بیان دیا تھا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ری پبلک آف ایران براڈ کاسٹنگ (آئی آر آئی بی) نے اتوار کی صبح بتایا کہ "ایران کے سپریم لیڈر نے درجۂ شہادت حاصل کر لیا ہے۔”
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا: "خامنہ ای، جو تاریخ کے سفاک افراد میں سے ایک تھے، ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ صرف ایران کے عوام ہی نہیں بلکہ عظیم امریکیوں اور دنیا بھر کے ان لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای کے ہاتھوں مارے گئے یا متاثر ہوئے۔
ایران کے سیاسی نظام میں سپریم لیڈر کو اعلیٰ ترین اختیار حاصل ہوتا ہے، جو مذہبی اور سیاسی دونوں طاقتوں کا حامل ہوتا ہے۔
خامنہ ای کے انتقال کے بعد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ماہرین کی مجلس(اسمبلی آف ایکسپرٹس) کرے گی، جو علمائے کرام پر مشتمل ایک آئینی ادارہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امکان ہے کہ ان کی جگہ کوئی مزید سخت گیر قیادت سامنے آ سکتی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں ایران میں معاشی حالات اور سیاسی تبدیلی کے مطالبات پر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو چکے ہیں۔
قیادت کے اچانک خلا اور جنگ کے قومی صدمے سے ایک طرف عوامی احتجاج دوبارہ بھڑک سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وفادار حلقوں کی جانب سے سخت کارروائیوں کا امکان بھی موجود ہے۔
اس سے قبل امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق کئی ہفتوں کی بات چیت کے بعد ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا۔
جواباً تہران نے اسرائیل اور چار خلیجی عرب ممالک بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جہاں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں۔
Comments are closed.