لیفٹنٹ گورنر کی قیادت میں کولگام میں منشیات سے پاک جموں وکشمیر ’پدیاترا‘ کا اِنعقاد
لیفٹیننٹ گورنر منو ج سِنہا نے آج کولگام میں ’منشیات سے پاک جموں و کشمیر پدیاترا‘کی قیادت کی اور ایک عوامی اِجتماع سے خطاب کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس عوامی تحریک نے جموں و کشمیر کے ہر فرد کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کر دیا ہے تاکہ اَپنے گاو¿ں اور اَپنے شہر کو منشیات سے پاک بنایا جا سکے۔
اُنہوں نے کہا، ”یہ مہم عوام کی اَپنی مہم ہے۔ والدین، اَساتذہ، مذہبی رہنما اور نوجوان رضاکار اِنتظامیہ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ آگے کا راستہ طویل ہے۔ منشیات کے خلاف جنگ مسلسل کوشش، مستقل چوکسی اور اِتحاد کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا، اَپنے نوجوانوں کی حوصلہ اَفزائی کرنی ہوگی، اَپنے کنبوں کی حفاظت کرنی ہوگی اور اَپنی کمیونٹیوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 51 روز پہلے جموں و کشمیر کے لوگوں نے تبدیلی کی ایک چنگاری روشن کی تھی اورلوگوں کی بھرپور شرکت سے یہ چنگاری آج اُمید، حوصلے اور عزم کے ایک روشن شعلے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اُنہوں نے کہا، ”یہ مہم دہشت گردی کی مالیاتی ریڑھ کی ہڈی پر ضرب لگا رہی ہے۔ منشیات پر خرچ ہونے والے ہر روپے سے اِنتہاپسندانہ تشدد کو فروغ ملتاہے اور نارکو دہشت اسی خون کی کمائی پر زندہ رہتے ہیں۔ منشیات کی تجارت کو روک کر ہم اس زندگی کی رسی کو کاٹ دیتے ہیں جو دہشت گرد نیٹ ورکس کو قائم رکھتی ہے۔“
منوج سِنہانے کہا،”میں جموں و کشمیر کے عوام کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہ صرف صحتِ عامہ کی جنگ نہیں بلکہ قومی سلامتی کی بھی ایک اہم لڑائی ہے۔ جب ہم منشیات کی سمگلنگ کو روکتے ہیں، تو ہم ان عناصر کو کمزور کر دیتے ہیں جو ہماری قوم کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، جموں و کشمیر کے بے گناہ معصوم لوگوں کا خون بہاتے ہیں اورہمارے نوجوانوں کو ترقی کی راہ سے ہٹاتے ہیں۔“
اُنہوں نے اَپنے خطاب میں کہا کہ کئی برسوں تک جموں و کشمیر کا معاشرہ نارکو دہشت گردوں کے حملوں کا شکار رہا۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی رہنمائی میں 2020 میں شروع کی گئی ’نشہ مُکت بھارت‘ مہم ایک کارآمد ثابت ہوئی۔
Comments are closed.